حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 321
حیات احمد ۳۲۱ جلد چهارم عاجز کو کذاب اور مفتری قرار دیا ہے اور دوسری طرف بڑے زور اور اصرار سے یہ دعویٰ کر دیا ہے کہ میں اعلیٰ درجہ کا مولوی ہوں اور یہ شخص سراسر جاہل اور نادان اور زبان عربی سے محروم اور بے نصیب ہے اور شاید اس بکو اس سے ان کی غرض یہ ہوگی که تا ان باتوں کا عوام پر اثر پڑے اور ایک طرف تو وہ شیخ بطالوی کو فاضلِ یگانہ تسلیم کرلیں اور اعلیٰ درجہ کا عربی دان مان لیں اور دوسری طرف مجھے اور میرے دوستوں کو یقینی طور پر سمجھ لیں کہ یہ لوگ جاہل ہیں اور نتیجہ یہ نکلے کہ جاہلوں کا اعتبار نہیں۔جولوگ واقعی مولوی ہیں انہیں کی شہادت قابلِ اعتبار ہے۔میں نے اس بیچارہ کو لاہور کے ایک بڑے جلسہ میں یہ الہام بھی سنا دیا تھا کہ اِنّی مُهِينٌ مَنْ أَرَادَ إِهَانَتَكَ کہ میں اُس کی اہانت کروں گا جو تیری اہانت کے در پے ہو۔مگر تعصب ایسا بڑھا ہوا تھا کہ یہ الہامی آواز اس کے کان تک نہ پہنچ سکی اُس نے چاہا کہ قوم کے دلوں میں یہ بات جسم جائے کہ یہ شخص ایک حرف عربی کا نہیں جانتا پر خدا نے اسے دکھلا دیا کہ یہ بات الٹ کر اسی پر پڑی یہ وہی الہام ہے جو کہا گیا تھا کہ میں اس کو ذلیل کروں گا جو تیری ذلت کے در پے ہو گا۔سبحان اللہ کیسے وہ قادر غریبوں کا حامی ہے۔پھر لوگ ڈرتے نہیں کیا یہ خدا تعالیٰ کا نشان نہیں کہ وہی شخص جس کی نسبت کہا گیا تھا کہ جاہل ہے اور ایک صیغہ تک اس کو معلوم نہیں وہ ان تمام مکفر وں کو جو اپنا نام مولوی رکھتے ہیں بلند آواز سے کہتا ہے کہ میری تفسیر کے مقابل پر تفسیر بناؤ تو ہزار روپے انعام لو اور نورالحق کے مقابل پر بناؤ تو پانچ ہزار روپیہ پہلے رکھا لو اور کوئی مولوی دم نہیں مارتا کیا یہی مولویت ہے جس کے بھروسہ سے مجھے کا فرٹھہرایا تھا۔ايُّهَا الشَّيْخ اب وہ الہام پورا ہوا یا کچھ کسر ہے۔ایک دنیا جانتی ہے کہ میں نے اسی فیصلہ کی غرض سے اور اسی نیت سے کہ تا شیخ بطالوی کی مولویت اور تمام کفر کے فتوے لکھنے والوں کی اصلیت لوگوں پر کھل جائے۔کتاب كرامات الصادقین عربی میں تالیف کی اور پھر اس کے بعد