حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 320 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 320

حیات احمد ۳۲۰ جلد چهارم منع فرماتا ہے اور اس بحث ہی میں حضرت ابوبکر صدیق اور فاروق اعظم رضی اللہ عنہا کے فضائل کے سلسلہ میں اور دنیا طلبی کے الزام کو واقعات کی روشنی میں دور کیا۔غرض یہ کتاب نہ صرف خلافت اور مسائل متنازعہ میں اَلسنّی وَ الشَّيْعَہ میں قول فیصل کا حکم رکھتی ہے بلکہ اس کے آخر میں فضائل صحابہ میں فصیح و بلیغ قصیدہ لکھا۔اس کتاب کی تالیف کی اس لئے بھی ضرورت تھی کہ چونکہ آپ نے مہدی معہود کا دعویٰ کیا تھا اور شیعہ قوم کے ہاں امام مہدی کا خروج ایک اہم بنیادی مسئلہ ہے۔اس لئے آپ نے ایک مختص باب میں اپنے دعویٰ کی حقیقت اور اپنے مہدی ہونے کا ثبوت دلائل قومیہ سے بیان کیا ہے کتاب مذکور آج تک لا جواب ہے اس کی اشاعت جولائی ۱۸۹۴ء میں ہوئی۔سر الخلافۃ کے جواب کے لئے انعامی چیلنج سر الخلافة کی تصنیف اور اشاعت پر بھی آپ نے مولوی محمد حسین اور اس کے ہم خیال علماء کو چیلنج دیا کہ وہ اس کا جواب عربی زبان میں ستائیس دن کے اندر شائع کر دیں تو ستائیں روپیہ انعام دیا جائے گا۔خود حضرت نے یہ کتاب چند نشستوں میں لکھ کر شائع کر دی گویا وہ ایک فی البدیہہ تصنیف ہے۔اس قسم کے چیلنج آپ کو اس لئے دینے پڑے کہ شیخ بٹالوی اور اس کے ہم خیال مولویوں نے اپنے علم پر گھمنڈ کر کے آپ کو ہمیشہ (نعوذ باللہ ) جاہل کہا۔اللہ تعالیٰ نے اس رنگ میں مخالفین کے کبر کے بُت کو پاش پاش کر دیا۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں۔وہ تمام صاحب جنہوں نے شیخ محمد حسین صاحب بٹالوی کے رسائل اشاعۃ السنہ دیکھے ہوں گے یا اُن کے وعظ سنے ہوں گے یا اُن کے خطوط پڑھے ہوں گے وہ اس بات کی گواہی دے سکتے ہیں کہ شیخ صاحب موصوف نے اس عاجز کی نسبت کیا کچھ کلمات ظاہر فرمائے ہیں اور کیسے کیسے خود پسندی کے بھرے ہوئے کلمات اور تکبر میں ڈوبے ہوئے تربات ان کے منہ سے نکل گئے ہیں کہ ایک طرف تو انہوں نے اس