حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 319
حیات احمد ۳۱۹ جلد چهارم سر الخلافة کی تصنیف اور اشاعت حضرت اقدس حرب العقائد کی بحثوں سے ہمیشہ الگ رہے۔چنانچہ ابتدائی ایام میں جب مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے دہلی سے فارغ التحصیل ہوکر وہابیت کا اعلان کیا۔اور بٹالہ کے شرفاء نے آپ کو اس کے ساتھ مباحثہ کے لئے بلایا تو آپ نے جا کر مسائل متنازعہ معلوم کر کے فرمایا کہ مولوی محمد حسین صاحب حق پر ہیں گویا حق کہنے میں آپ کبھی رکتے نہ تھے۔مگر لایعنی مباحثہ آپ کو کبھی پسند نہ تھا۔آپ کی تعلیم ایک مشہور شیعہ عالم مولوی سید گل علی شاہ صاحب سے ہوئی اور شیعہ مذہب کے اصول و فروع سے آپ واقف تھے۔اہل بیت نبوی عَلَيْهِ التَّحِيَّةُ سے محبت آپ ضروری سمجھتے تھے مگر یہ آپ کو کبھی پسند نہ تھا کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کی قربانیوں کو فراموش کر دیا جاوے۔خلفاء اربعہ سے علی الخصوص محبت کو بھی آپ تکمیل ایمان کا جزو یقین کرتے تھے۔ان کے خلاف کوئی بات سننا پسند نہ کرتے تھے باوجود اس قسم کے مباحثہ سے الگ رہنے کے آپ نے خلفاء اربعہ کے کارناموں کے اظہار کے لئے سر الخلافۃ عربی زبان میں لکھی اور اس میں آیت استخلاف کے حقائق و معارف بیان کئے اور شیعہ اور سنی کے درمیان مسئلہ خلافت پر جو اختلاف ہے اس کا نہایت معقول اور موثر پیرایہ میں فیصلہ کر کے ثابت کیا ہے کہ نظام خلافت جس ترتیب سے واقع ہوا وہی صحیح اور حق ہے اور ہر چہار خلفاء راشدین کی انفرادی بزرگی اور کمالات کو تسلیم کرتے ہوئے آپ نے ثابت کیا کہ مسئلہ خلافت میں حضرت ابوبکر صدیق کا مقام بہت بلند ہے۔اور آیت استخلاف کا ایک ایک لفظ کامل طور پر آپ کی خلافت کی تصدیق کرتا ہے۔اس سلسلہ میں آپ نے ان فتن کا ذکر بھی فرمایا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد پیدا ہوئے اور حضرت صدیق اکبر نے نہایت قوت و استقلال کے ساتھ نہ صرف ان فتن کو دور کیا بلکہ اسلام کو ایک نئی زندگی عطا ہوئی۔اسی سلسلہ میں آپ نے تبرہ بازی کی شناعت کو بھی قرآن مجید ہی کی آیات بینات کی روشنی میں بڑی تفصیل سے بتایا کہ قرآن کریم اس قسم کے الفاظ کا استعمال