حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 318 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 318

حیات احمد ۳۱۸ جلد چهارم غرض یہ رسالہ شائع ہو گیا۔اس میں حضرت نے مخالفین و مکذبین کی ان تمام کوششوں کو بھی نگا کر دیا جو آپ کی مخالفت میں کی گئی تھیں اہل اللہ کا دم بھرنے والے لوگوں نے اپنے الہامات کی بنا پر ہی فتویٰ نہیں دیا۔بلکہ بددعائیں کیں لیکن وہ بددعا ئیں ان پر ہی لوٹ پڑیں۔گندی گالیوں کے اشتہار اور کفر کے ہی نہیں۔قتل کے فتوے دیئے گئے جب ان منصوبوں سے بھی کچھ نہ ہوا اور یہ تمام کوششیں سلسلہ احمدیہ کے باغ کے لئے کھاد کا کام دیتی رہیں تو جھوٹی مخبریوں کی آڑ لی اور گورنمنٹ وقت کو سلسلہ کے خلاف اکسانے کے لئے اپنے اثر اور رسوخ سے کام لیا مگر خدا کے پاک بندوں کو خدا سے نصرت آتی ہے۔یہ تمام مکائد اور منصوبے خاک میں مل گئے آج اُن کا کوئی نام لیوا نہیں اور اس مرد خدا کی تبلیغ آفاق میں پہنچ گئی میں نصرت الہی کے ان نظاروں میں محو ہو گیا پھر اصل مضمون کی طرف آکر لکھتا ہوں کہ رسل بابا صاحب اس میدان کے مرد ثابت نہ ہوئے۔لیکن اللہ تعالیٰ کی گرفت سے بچ نہ سکا۔اور طاعون کا شکار ہو گیا۔یہ بھی ایک سلسلہ کی سچائی کا نشان تھا ۱۹۰۲ء میں جب پنجاب میں طاعون کا شدید حملہ ہوا اور جو حضرت کی پیش گوئی اور قبل از وقت اعلان میں بتایا گیا تھا تب مولوی رسل بابا اور ان کے خاص دوستوں نے فخریہ کہنا شروع کیا کہ اس قدر شدید حملہ طاعون سے ہمارا محفوظ رہنا ہماری صداقت کا نشان ہے۔جب انہوں نے اس کا اظہار اپنی مجلسوں اور وعظوں میں کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو پکڑا اور وہ ۸/ دسمبر ۱۹۰۲ء کو طاعون سے فوت ہو گئے۔اور اپنی موت کو سلسلہ کی سچائی کا نشان قرار دے گئے۔اس لئے کہ حضرت اقدس کو جون ۱۹۰۲ء کے قریب الہام ہوا تھا تُخْرَجُ الصُّدُورُ إِلَى الْقُبُورِ مخالفین کے سرگروہ قبروں کی طرف منتقل کئے جائیں گے اور اس کے بعد شیخ الکل دہلوی اور اللہ بخش تونسوی اور بعض دوسرے اکابر حضرت کی زندگی میں فوت ہو گئے اور اسی سلسلہ میں رسل بابا کی موت نے اس کی صداقت پر مہر لگادی انہیں ایام میں میں نے الحکم میں اس کا اعلان کیا جس کا کوئی جواب کسی نے نہ دیا۔