حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 317
حیات احمد ۳۱۷ جلد چهارم اثر تھا۔اور اس کی پارٹی میں بعض دوسرے اہل اثر لوگ بھی تھے۔خصوصاً قلعہ بھنگیاں میں وہ ایک بت کی طرح پوجا کئے جاتے تھے۔اس علاقہ کے سمجھ دار اور کسی قدر آزاد خیال مریدوں نے زور بھی دیا کہ اس چیلنج کو قبول کر لیا جائے۔مگر مولوی رُسل بابا نے بلطایف الحیل اس کو ٹلا دیا۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ قلعہ بھنگیاں میں ایک جماعت احمدیہ قائم ہوگئی۔اس جماعت کے لیڈر میاں جیون بٹ رضی اللہ عنہ تھے جن کو حضرت مولوی سرور شاہ صاحب کے خسر ہونے کی عزت ملی۔اسی طرح میاں محمد سلطان اور دوسرے مخلصین بھی تھے۔اس جماعت کو قلعہ کے غیر احمدیوں نے بڑی تکالیف دیں۔مگر اللہ تعالیٰ نے ان کو استقامت اور سکینت عطا کی اور ان کے قدم میں ذرا لغزش نہ ہوئی وہ باوجود معمولی معاشی اور علمی حیثیت کے وہاں کے رئیسوں اور مولویوں کا مقابلہ کرتے رہے۔اللہ تعالیٰ ان کے مدارج بلند کرے۔میاں غلام رسول اسی جماعت کا ایک فرد میاں غلام رسول بھی تھا۔وہ کشمیری مصلی ساز تھا اور شادی وغیرہ تقریبوں پر کھانا پکانے میں بڑا ماہر اور مشہور تھا اور مولوی رسل بابا کے ساتھ خاص عقیدت رکھتا تھا۔اس نے بھی بیعت کر لی تو اس کا خاص طور پر بائیکاٹ کیا گیا۔اور سمجھا یہ گیا تھا کہ اس معاشی بائیکاٹ سے گھبرا کر واپس آئے گا مگر اس نے اس کی کچھ پرواہ نہ کی اور قرنِ اولیٰ کے صحابہ کی طرح قبول حق کو ہر مصیبت پر ترجیح دی۔ان مخلصین کا ذکر ضمناً آ گیا۔اور میں نے ضروری سمجھا کہ ان کی ایمانی قوت اور حق پرستی کی یاد پڑھنے والوں کے لئے چھوڑ جاؤں خود راقم الحروف کے ساتھ بھی انہیں برادرانہ محبت تھی۔جو عصر سعادت کے اُن دنوں کی ایک بے نظیر نعمت اور حضرت مسیح موعود کی قوت قدسی کا ایک ثبوت تھی اللہ تعالیٰ کی غریب نوازی کو دیکھو کہ آج ان تمام بزرگوں کی اولاد ہر طرح سے عزت و اکرام کی زندگی بسر کرتی ہے۔اور یہ ایک خدائی نشان کے طور پر ہے۔