حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 316
حیات احمد ۳۱۶ جلد چهارم ہر ایک کو چاہیے کہ ایسے دروغ گولوگوں کے شر سے خدا تعالی کی پناہ مانگیں اور ان سے پر ہیز کریں۔“ ( اتمام الحجة، روحانی خزائن جلد ۸ صفحه ۳۰۶،۳۰۵) مولوی رسل بابا صاحب کو اتمام الحجة بصیغہ رجسٹری بھیجی گئی اور رؤسائے امرت سرکو اور خود مولوی محمد حسین صاحب کو بھی۔مگر مولوی رسل بابا صاحب کو اس کے بعد ہمت نہ ہوئی کہ ان شرائط کو منظور کر کے میدان میں آئے۔امرت سر کی کشمیری جماعت میں مولوی رسل بابا کا بہت بڑا بقیہ حاشیہ۔ہم بار بار کہتے ہیں اور زور سے کہتے ہیں کہ شیخ اور یہ تمام اس کی ذریات محض جاہل اور نادان اور علوم عربیہ سے بے خبر ہیں۔ہم نے تفسیر سورۃ الفاتحہ انہیں لوگوں کے امتحان کی غرض سے لکھی اور رسالہ نورالحق اگر چہ عیسائیوں کی مولویت آزمانے کے لئے لکھا گیا مگر یہ چند مخالف یعنی شیخ محمدحسین بطالوی اور اس کے نقش قدم پر چلنے والے میاں رسل بابا وغیرہ جو مکفر اور بدگو اور بد زبان ہیں اس خطاب سے باہر نہیں۔الہام سے یہی ثابت ہوا ہے کہ کوئی کافروں اور مکفروں سے رسالہ نور الحق کا جواب نہیں لکھ سکے گا۔کیونکہ وہ جھوٹے اور کاذب اور مفتری اور جاہل اور نادان ہیں۔اگر یہ ہمارے الہام کو الہام نہیں سمجھتے اور خبیث باطن کی وجہ سے اس کو ہماری بناوٹ یا شیطانی وسوسہ خیال کرتے ہیں تو رسالہ نورالحق کا جواب میعاد مقررہ میں لکھیں اور اگر نہیں لکھ سکتے تو ہمارا الہام ثابت۔پھر جن لوگوں نے اپنی نالیاقتی اور بے علمی دکھلا کر ہمارا الہام آپ ہی ثابت کر دیا تو وہ ایک طور سے ہمارے دعوی کو تسلیم کر گئے۔پھر مخالفانہ بکو اس قابل سماعت نہیں اور ہماری طرف سے تمام پادریان اور شیخ محمد حسین بطالوی اور مولوی رُسل بابا امرتسری اور دوسرے ان کے سب رفقاء اس مقابلہ کے لئے مدعو ہیں اور درخواست مقابلہ کے لئے ہم نے ان سب کو اخیر جون ۱۸۹۴ء تک مہلت دی ہے اور رسالہ بالمقابل شائع کرنے کے لئے روز درخواست سے تین مہینہ کی مہلت دی ہے۔پھر اگر اخیر جون ۱۸۹۴ ء تک درخواست نہ کریں تو بعد اس کے کوئی درخواست سنی نہیں جائے گی۔اور نادانی ان کی ہمیشہ کے لئے ثابت ہو جائے گی۔اور مولویت کا لفظ ان سے چھین لیا جائے گا۔“ اتمام الحجة - روحانی خزائن جلد ۸ صفحه ۳۰۲ تا ۳۰۴)