حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 306
حیات احمد جلد چهارم ا لئے اور اس کے احسانوں کو یاد کر کے آج تک صبر ہی کرتے رہے اور کریں گے۔اور اگر نہ کریں تو کیا کر سکتے ہیں؟ کیا کسی قانون میں ایسے لوگوں کی کوئی سزا بھی ہے جو اظہار رائے کی اوٹ میں ہر یک قسم کی اہانت اور بدگوئی اور دشنام دہی کر رہے ہیں ؟ اور پھر عدالتوں میں سرخرو ہیں۔فَمَا نَشْكُرْ إِلَّا إِلَى اللَّه اب ان دنوں میں پادری صاحب نے اپنی کتاب نصيحة المسلمین وغیرہ کی گالیوں پر بس نہ کر کے ایک اور کتاب نکالی ہے جس کا نام توزین الاقوال رکھا ہے۔اس میں بھی وہ بدگوئی سے باز نہ رہ سکے۔قرآن شریف کی فصاحت پر ٹھٹھا کیا ہے۔اور لکھا ہے کہ اس کا اتارنے والا روح القدس نہیں بلکہ ایک شیطان ہے اور پھر اپنی ایک مولویت جتائی ہے کہ ہم بڑے فاضل اور عالم ہیں اور عنقریب قرآن کی تفسیر شائع کرنی چاہتے ہیں اور جو رسالہ انہوں نے ان دنوں میں امریکہ کے جلسہ نمائش مذہبی میں بھیجا ہے اور چھپوا کر شائع کر دیا ہے۔اس میں دعوی ہے کہ اسلام کے عمدہ عمدہ مولوی سب عیسائی مذہب میں داخل ہو گئے ہیں۔اور ہوتے جاتے ہیں۔اور پھر ایک لمبی چوڑی فہرست ان مولویوں اور فاضلوں کی بغرض ثبوت دعوی پیش کی ہے جنہوں نے عیسائی دین قبول کر لیا ہے۔اور ان بزرگوں کی بہت علمی تعریف کی ہے کہ وہ ایسے ہیں اور ایسے ہیں۔اور یہ سمجھانا چاہا ہے کہ تمام اعلیٰ درجہ کے مولوی تو عیسائی ہو چکے۔اور اب اسلام کے دین پر قائم رہنے والے صرف جاہل اور نادان اور بے تمیز لوگ باقی ہیں۔مگر افسوس کہ یہ رسالہ مجھ کو وقت پر نہیں ملا اور نہ مؤلف نے میری طرف بھیجا۔صرف چند روز سے میں نے اطلاع پائی ہے۔سو میں نے سوچا کہ اس طوفان کا بہت جلد جواب دینا چاہیے نیز اس حقیقت کو کھولنا واجبات سے ہے کہ گویا پادری عمادالدین صاحب حاشیہ۔نیک نیتی کی بنیاد پر اظہار رائے صرف اس حالت میں کہیں گے کہ جب بصیرت کی رو سے رائے ظاہر کی جائے۔لیکن اگر بصیرت نہ ہو تو وہ اظہار رائے نہیں بلکہ مجرمانہ تو ہین ہے جو نیک نیتی سے نہیں۔منہ