حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 303
حیات احمد ٣٠٣ جلد چهارم روانہ کر دی۔پھر پندرہ سولہ روز کے بعد میں خود حضرت اقدس علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا۔آنحضرت علیہ السلام نے بعد سلام و مصافحہ فرمایا کہ پادری عمادالدین کی کتاب جو آپ نے بھیج رکھی ہے۔آپ کے آنے پر ملتوی کیا تھا۔ہاتھ میں کتاب لے باہر مکان کے تشریف لائے اور اس جگہ ٹہلنے لگے جہاں اب مدرسہ ہے۔پہلے وہاں صرف پلیٹ فارم تھا۔اور وہ حضرت مولانا نورالدین خلیفہ امسیح علیہ السلام نے کچی اینٹوں کا بنوایا تھا۔آپ ٹہلتے تھے اور پادری عمادالدین کا ذکر فرماتے تھے کہ اتنے میں جناب چودہری رستم علی صاحب مرحوم کورٹ انسپکٹر یکہ میں آگئے۔حضرت اقدس ان کو دیکھ کر بہت ہی خوش ہوئے اور اس کتاب عمادالدین کا ذکر فرمایا۔منشی صاحب مرحوم و مغفور نے عرض کیا کہ میں بھی وہ کتاب لایا ہوں کتاب کے دیکھنے اور پڑھنے سے مجھ کو سخت رنج ہے کہ پادری عماد الدین نے وہ باتیں لکھی ہیں جو اسلام سے ان کو کوئی تعلق اور لگاؤ نہیں صرف افترا اور بہتان سے پُر ہے۔میں نے عرض کیا کہ حضرت اسی کتاب میں عمادالدین نے لکھا ہے کہ مسلمانوں میں کوئی ولی نہیں ہوا۔آخر کا ر منشی صاحب مرحوم نے چند جگہ بقیہ حاشیہ۔میری تالیفات سے عام لوگ مذہبی ولولہ میں آکر حرارت سے مغلوب ہوکر بے ادائیاں کریں۔اور سرکار میں مفسد شمار ہو جاویں ہم نے سنا ہے کہ پنجاب ٹریکٹ سوسائٹی کی پبلشنگ کمپنی نے شورش انگیز کتاب کے دوسرے حصہ کو اس وجہ سے نا منظور کیا ہے کہ اس میں پہلے حصہ سے زیادہ دل شکن با تیں درج ہیں۔اگر یہ بات سچ ہے تو بہت خوب کیا۔ایتھی تمام ہوئی عبارت ہند پر کاش کی۔پادری صاحبوں کے شمس الاخبار لکھنو مطبوعہ امریکن مشن پریس ۱۵ راکتو بر ۱۸۷۵ء نمبر ۱۵ جلدے با ہتمام پادری کر یون صاحب صفحہ 9 میں لکھا ہے کہ نیاز نامہ جس کے مصنف صفدر علی صاحب بہادر مسیحی اکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر ضلع ساگر ملک متوسط ہند میں عمادالدین کی تصنیفات کی مانند نفرتی نہیں کہ جس میں گالیاں لکھی ہوئی ہیں۔اور اگر ۱۸۵۷ء کے مانند پھر غدر ہوا تو اسی شخص کے بد زبانیوں اور بیہودگیوں سے ہوگا۔جب ان کو باہر پندرہ روپیہ کو بھی کوئی نہ پوچھے اور مشن میں سترہ روپیہ ماہواری اور کوٹھی ملے۔جس کے احاطے کے اندر چاہیں تو تیل نکالنے کا کولہو بھی بنالیں ایسے لالچیوں کو کیا کہنا چاہیے۔انتہی ( بعيد نقل كالأصل )