حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 21
حیات احمد جلد چهارم ہوئی۔کیا یہ استدراج اور نجوم ہے یا اٹکل ہے۔اور کیا سبب ہے کہ خدا تعالیٰ بقول آپ کے ایک دجال کی ایسی پیشگوئیاں پوری کرتا جاتا ہے۔جن سے ان کی سچائی کی تصدیق ہوتی ہے۔“ راقم خاکسار غلام احمد از قادیان ضلع گورداسپور تبلیغ رسالت جلد ۳ صفحه ۲۴، ۲۵ - مجموعه اشتہارات جلد اصفحه ۳۲۳ طبع بار دوم ) غرض آئینہ کمالات کی تصنیف بہت سی برکات کو لے کر آئی۔اور اس کے ذریعہ مخالفین سلسلہ کے مختلف طبقات پر اتمام حجت کیا گیا اور آئندہ آنے والے بعض واقعات کے متعلق مختلف طریقوں سے اظہار کیا گیا۔فروری ۱۸۹۳ء کا مہینہ خصوصیت سے ان بشارات کی اہمیت کی وجہ سے تاریخ سلسلہ میں ایک تاریخی مہینہ ہے اور یوں تو سلسلہ کی آئندہ ترقیات اور اس کے مستقبل کی بنیاد بھی فروری ۱۸۸۶ ء ہی کو بمقام ہوشیار پور رکھی گئی۔جس کا ذکر پہلی جلد میں کر آیا ہوں۔عجیب بات یہ ہے کہ وہ عظیم الشان اعلان جو متعدد پیشن گوئیوں پر مشتمل تھا ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء کو شائع ہوا تھا۔اسی سلسلہ میں بعض پیشگوئیوں کی مزید تصریحات ۲۰ فروری ۱۸۹۳ء کو ہوئیں۔آریہ سماج پر اتمام حجت اور پنڈت لیکھرام کے متعلق پیشگوئی کی تصریح آریہ سماج سے مذہبی مناظرات کا سلسلہ تو ۷۶۔۱۸۷۷ء سے جاری تھا اور ہندو باند ہو آریه در پن وغیرہ رسالہ جات میں مضامین شائع ہوتے تھے اور ہوشیار پور میں ماسٹر مرلی دھر صاحب سے ایک مباحثہ بھی ہوا جو سُرمہ چشم آریہ کے نام سے چھپ کر شائع ہو چکا۔مگر براہین احمدیہ کے زمانہ سے پنڈت لیکھرام صاحب آریہ مسافر نے تکذیب براہین کے نام سے اعلان جنگ کیا۔اور خط و کتابت بھی ہوتی رہی۔وہ قادیان بھی آیا۔