حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 298 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 298

حیات احمد ۲۹۸ جلد چهارم نہیں لکھ سکتا۔اور جو کچھ میں نے لکھ کر آپ کی خدمت میں روانہ کیا ہے۔وہ گویا قوم کے قلوب کی اصلاح کے لئے تحریر کیا ہے ورنہ اگر جناب مرزا صاحب سلمہ کے اوصاف حمیدہ لکھوں تو ایک مجلد کتاب شاید کافی نہ ہوگی۔زہے نصیب آپ کے کہ آپ نے دستِ ارادت اُن کے ہاتھ میں دیا۔بارک اللہ تعالیٰ۔اللہ تعالیٰ قوم کے افراد علماء کو نظر انصاف عنایت فرمائے اور لوگوں کی ملامت وغیرہ سے تنگ نہ ہو جئے اور اپنا کام کئے جائیے۔انہیں بکنے دیجئے اور کچھ خیال نہ کیجئے قدیم سے یہی حال رہا ہے۔میں اپنے ایک جانی دوست کا حال لکھتا ہوں کہ جن کے صادق ہونے پر مجھ کو اتنا یقین ہے کہ جتنا مجھے اپنے موجود ہونے پر یقین ہے اور چونکہ ان کی اجازت نہیں ہے اس لئے ان کا نام ظاہر نہیں کر سکتا ہوں۔انہوں نے فرمایا کہ میں نے جناب مرزا صاحب کی زیارت کی ہے۔اور عجب العجائب بات یہ بیان کی کہ میں نے جس وقت جناب مرزا صاحب کو دیکھا۔اس وقت میرے پیرومرشد بر رخ شریف ہو بہو دکھائی دیا۔اور فی عمرہ ایسا اتفاق کبھی نہیں ہوا۔اگر چہ علماء ظاہر اور مشایخ وقت کی صحبت اکثر رہی اور رہا کرتی ہے اور دوشب پے در پے اپنے پیر کو خواب میں دیکھا تو ایک مکان عالی میں دیکھا۔لیکن اس طرح دیکھا کہ وہ مکان عالی خاص مرزا صاحب کا ہے اور میرے پیرومرشد بطور مہمان کے جناب مرزا صاحب کے یہاں تشریف رکھتے ہیں۔تب میں نے ان سے پوچھا کہ تم نے استخارہ کیا ہوگا یا مرزا صاحب کا خیال کرتے سو گئے ہو گے انہوں نے جواب دیا یہی تو زیادہ توجہ کرنے کی بات ہے کہ سونے کے حل جناب مولوی احمد حسین صاحب صوفی قادیان جا کر حضرت سے مل بھی آئے ہیں۔حضرت اقدس کے بارے میں ایک طوفانی خط لکھا ہے وہ سوال و جواب کے طور پر ہے۔وہ اس غرض سے لکھا ہے کہ اس کی اشاعت ہو۔اور لوگوں کا خیال حق کی طرف مائل ہو اس خط کو بجنسہ اس کتاب کے اخیر میں چھاپ دیتا ہوں اس تحریر کا طور کسی قدر پنچ کے طور پر ہو گیا ہے لیکن اس میں صوفی صاحب کی نیت خیر ہے۔