حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 296
حیات احمد ۲۹۶ جلد چهارم پہچانا وہ جاہلیت کی موت پر مرا۔پھر جس حالت میں خداداد عقل تجھ کو بتارہی ہے کہ جناب حضرت مرزا صاحب امام زماں ہیں تو ان سے روگردان ہو کر کہاں جائے گا۔کیا دنیا کی چند روزہ زندگی کے نام اور جھوٹی عزت پر اپنے ابد الآباد کے نفع کو غارت کر دے گا۔او کو نہ اندیش ! جس روحانی مرض میں تو مبتلا ہے اس کی دوا تک اللہ نے تجھ کو پہنچایا۔جناب مولوی حکیم نورالدین صاحب ایسا بے ریا فاضل اپنا ذاتی تجربہ پیش کر کے اس دوا کا فائدہ مند ہونا بتاتا ہے۔پھر کیسی کمبختی تجھ کو آئی ہے اپنی صحت روحانی کا دشمن بن کر اندرونی پلیدی اور منافقانہ زندگی میں ڈوبار ہنا چاہتا ہے۔اے حضرات! میں نے فرشتہ کی بات سن لی۔اور تاریخ ۱۱ جنوری ۱۸۹۴ء شب جمعہ کو حضرت امام الوقت مجد دزمان جناب مرزا غلام احمد صاحب رئیس قادیان سے بیعت کر لی۔اور ان کو اپنا امام قبول کر لیا۔فَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَالِکَ۔بیعت کرنے کے بعد تین دن تک قادیان شریف میں رہنے کا موقعہ ملا۔ان اخیر کے دن میں جب میں جماعت کے ساتھ نماز پڑھتا تھا تو مجھ کو معلوم ہوتا تھا کہ اب میں نماز پڑھتا ہوں۔مجھے عجیب حلاوت اور عجیب مزا نماز میں ملتا تھا۔۱۳ جنوری ۱۸۹۴ء میں اپنے امام سے رخصت ہوکر لاہور میں آیا اور بڑی دھوم دھام کا لیکچر انگریزی میں دیا۔جس میں حضرت اقدس کے ذریعہ سے جو کچھ روحانی فائدہ ہوا تھا اس کا بیان کیا۔جب میں اس سفر پنجاب سے ہوکر مدراس پہنچا تو میرے ساتھ وہ معاملات پیش آئے جو صداقت کے عاشقوں کو ہر زمانے و ہر ملک میں اٹھانے پڑے ہیں۔مسجد میں وعظ کہنے سے روکا گیا۔ہر مسجد میں اشتہار کیا گیا کہ حسن علی سنت جماعت سے خارج ہے۔کوئی اس کا وعظ نہ سنے۔بیعت کے بعد واپسی اور قوم کا سلوک اس طرح پر ۱۸۹۳ء کا آغاز ایک ایسے شخص کے سلسلہ میں شمولیت سے ہوا جو ہندوستان بھر میں اپنی قربانیوں اور تبلیغی کام کی وجہ سے مشہور تھا۔اور جوصوبہ بہار میں احمدیت کا آدم قرار پایا۔قادیان سے بیعت کر کے جب وہ واپس گئے تو اس قوم نے ( جن میں وہ مقبول اور محبوب تھے۔