حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 295
حیات احمد ۲۹۵ جلد چهارم زمانہ کے فتن کے مقابلہ میں غلبہ اسلام ظاہر کرنے کے لئے پیدا کیا تھا مجھ کو یہ معلوم تھا کہ پنجاب کے ایک مولوی صاحب کی سراسر ظالمانہ کارروائی سے علمائے پنجاب و ہند حضرت مرزا صاحب کے سخت مخالف ہو گئے ہیں۔مولوی صاحب نے حضرت کے بارے میں وہ وہ عقائد جو حضرت کے خواب و خیال میں بھی نہیں گزرے تھے۔تصنیف کر کے علماء سے فتویٰ لیا تھا۔اور افسوس کہ علمائے موجودہ نے کچھ غور فکر نہیں کیا۔حقیقت حال کی تفتیش نہ کی۔اس تکفیر نامہ پر دستخط کر دیا اور مہر لگادی۔اس تکفیر کی وجہ سے سارے ہند میں حضرت مرزا صاحب سے بڑھ کر کوئی بدنام شخص نہ تھا۔اب بہت بڑا سوال یہ پیش آیا کہ آیا میں ایسے جلیل القدر امام کا متبع ہو جاؤں اور ناحق کی تکفیر اور ملامت کا ٹوکرا سر پر اٹھاؤں۔اور جو کچھ عزت میں نے عمدہ واعظ ہونے کی سارے ہند میں پیدا کی ہے۔اس کو حق پر قربان کر کے بجائے مقبول خلائق کے مردود و ملعون خلائق بن جاؤں۔یا شیعوں کی پالیسی اختیار کر کے حضرت مرزا صاحب کے پاس ان کا موافق اور ان کے مخالفوں کے پاس (معاذ اللہ ) مرزا صاحب کا مخالف بن کر واہ واہ کی صدا سنوں۔عجب عجب کشمکش میں کئی دن میرے قادیان شریف میں گزرے۔روز رو رو کر جناب باری تعالیٰ میں دعائیں کرتا کہ خداوندا اگر تیری خوشنودی مرزا صاحب کی تابعداری و فرمانبرداری میں ہے تو مجھ پر بذریعہ خواب کے جیسا کہ تو نے بارہا کیا ہے اصل حال کھول دے۔لیکن ادہر سے نہ آنا تھا۔مالک کی یہی مرضی تھی کہ میں خود خدا داد عقل کو استعمال کر کے اپنا نفع و نقصان دیکھ بھال کر کام کروں۔پٹنہ اسکول کی ہیڈ ماسٹری چھوڑنے سے اس دفعہ بھاری معاملہ تھا۔اس دفعہ ایک بھاری قربانی کا موقعہ آ گیا تھا۔بڑے بڑے لوگوں نے تو اس سے ہزار ہا درجہ بڑھ کر پیاری اور عزیز چیزوں کو حق پر قربان کر دیا ہے۔لیکن میں کیا تھا۔اور میری ہمت ہی کیا تھی۔ایک قدم آگے رکھتا۔ایک قدم پیچھے رکھتا۔شیطان کہتا کہ میاں بربادی اور تباہی اور ذلت و رسوائی سے بچنا ہے تو چپ چاپ قادیان سے نکل چلو۔فرشتہ کہتا او کمبخت کیا تو نے حدیث نہیں پڑھی کہ جس نے اپنے امام وقت کو نہ