حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 294 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 294

حیات احمد ۲۹۴ جلد چهارم شریف پہنچا۔ہاں امرت سر میں میں نے ایک خواب دیکھا کہ ایک پلنگ خاص جناب مرزا صاحب کا ہے۔حضرت مرزا صاحب فرماتے ہیں کہ اس پلنگ پر جا کر لیٹ رہو۔میں نے عرض کیا کہ میں یہ گستاخی کیونکر کروں۔کہ حضور کے بستر پر لیٹوں۔حضرت نے مسکرا کر کہا کہ نہیں جی کوئی مضائقہ نہیں۔تکلیف کیوں کرتے ہو۔غرض تاریخ ۲ جنوری ۱۸۹۴ء کو قادیان پہنچا۔جناب مرزا غلام احمد صاحب رئیس قادیان نے حسب دستور ہم سے ملاقات فرمائی۔میرے اور سیٹھ صاحب کی قیام گاہ کا بندوبست کیا۔اور نہایت محبت و اخلاق سے باتیں کیں۔اس پہلی ملاقات میں ہی ہمارے پیارے دوست جناب عبدالرحمن سیٹھ صاحب تو اس امام الوقت کے ہزار جان سے عاشق ہو گئے۔مجھ سے سیٹھ صاحب نے پوچھا کہو جناب مرزا صاحب کو کیسا پاتے ہو۔میں کیا جواب دیتا۔میرے تو ہوش دنگ ہو گئے تھے۔۱۸۸۷ء میں جب مرزا صاحب کو دیکھا تھا وہ نہ تھے۔آواز ونقشہ وہی تھا۔لیکن کل بات ہی بدلی ہوئی تھی۔اللہ اللہ سر سے پا تک ایک نور کے پتلے نظر آتے تھے۔جو لوگ مخلص ہوتے ہیں اور اخیر رات اٹھ کر اللہ کی جناب میں رویا دھویا کرتے ہیں ان کے چہروں کو بھی اللہ اپنے نور سے رنگ دیتا ہے اور جن کو کچھ بھی بصیرت ہے وہ اس نور کو پر کھ لیتے ہیں۔لیکن حضرت مرزا صاحب کو تو اللہ نے سر سے پاؤں تک محبوبیت کا لباس اپنے ہاتھوں سے پہنایا تھا۔تیرہ دن قادیان شریف میں رہا۔دونوں وقت اس امام ربانی محبوب سبحانی سے ملاقات رہی۔یہ زمانہ میری عمر کا بہت ہی عمدہ زمانہ تھا۔حضرت کی بے مثل تصانیف کے دیکھنے کا مجھ کو یہاں اچھا موقع ملا۔آئینہ کمالات اسلام۔توضیح مرام۔ازالہ اوہام۔شہادت القرآن - برکات الدعا وغیرہ کتابوں کو تھوڑا تھوڑا دیکھا۔عبدالرحمن سیٹھ صاحب نے مہربانی فرما کر ایک ایک جلد حضرت کی تصانیف کی میرے دیکھنے کے لئے خرید فرمائی۔سیٹھ صاحب کی یہ عمدہ یادگا ر میرے پاس موجود ہے اور میں نے اس سے بہت بڑا نفع اٹھایا۔حضرت کی تصانیف کو دیکھ کر مجھ کو یہ معلوم ہوا کہ جس مجد دزمان کی مجھ کو تلاش تھی در حقیقت علم الہی میں وہ جناب حضرت مرزا غلام احمد صاحب ہی تھے۔اللہ نے حضرت ہی کو اس موجودہ