حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 293
حیات احمد ۲۹۳ جلد چهارم اپنی آنکھوں سے دیکھ چکا تھا۔میرے دل میں کسی وقت یہ خیال نہیں آیا کہ معاذ اللہ مرزا صاحب نے لوگوں کو دھوکہ دینا چاہا ہے۔بلکہ خیال بد آیا اگر تو یہ آیا کہ خود حضرت مرزا صاحب کو دھوکا ہو گیا ہے لیکن چونکہ (جیسا کہ میں سابق میں بیان کر چکا ہوں ) میرے خیال میں اس صدی کے مجدد کا ایک نقشہ تھا۔اور اس نقشہ کے مطابق مرزا صاحب میں کئی باتیں نہیں پاتا تھا۔اس لئے میرا خیال یہ نہیں ہوا کہ وہ اس صدی کے مجدد ہیں۔“ 66 اس سفر اول میں ان کے یہ خیالات تھے۔اور حضرت حکیم الامت کی دعوت پر قادیان آنے سے دسمبر ۱۸۹۳ء میں انکار کر چکے تھے۔مگر وقت آ گیا تھا کہ قادیان آکر اس چشمہ سے سیراب ہوں۔چنانچہ اس کی کیفیت ان کے الفاظ میں سنو۔میں انجمن حمایت اسلام مدراس کے سالانہ جلسہ میں شریک ہونے کے لئے حسب دعوت انجمن چلا جا رہا تھا کہ بمبئی میں جناب عبد الرحمن حاجی اللہ رکھا سیٹھ صاحب سے ملاقات ہوئی معلوم ہوا کہ جلسہ انجمن ایک ماہ کے لئے ملتوی رکھا گیا ہے۔جناب سیٹھ صاحب نے مجھ سے یہ خواہش ظاہر کی کہ میں ان کے ساتھ ہندوستان کے مشہور شہروں کی سیر کروں اور ان کے ساتھ قادیان شریف بھی جاؤں۔جناب عبدالرحمن سیٹھ صاحب کا ارادہ تھا کہ مرزا صاحب سے بیعت کریں پہلے تو میں نے حیلہ حوالہ کر کے اس سفر کی تکلیف سے بچنا چاہا۔لیکن سیٹھ صاحب نے مجھ کو خوب مضبوط پکڑا۔سیٹھ صاحب کو مجھ سے حسن ظن تھا۔وہ مجھ سے فرمانے لگے کہ چل کر دیکھو کہ مرزا صاحب صادق ہیں یا کا ذب۔میں نے کہا۔الحمد للہ، اللہ تعالیٰ نے اتنا فضل مجھ پر کیا ہے کہ میں چہرہ دیکھ کر آدمی کی باطنی کیفیت سے آگاہ ہو جاتا ہوں۔انسان سے سب کچھ ممکن ہے۔نیک بد ہو جاتا ہے اور بد نیک ہو جاتا ہے اگر مرزا صاحب وہ نہیں رہے ہیں جو میں نے ۱۸۸۷ء میں دیکھا تھا۔اور اگر ان میں دنیا داری مکاری آگئی ہے تو میں چہرہ دیکھ کر کہہ دوں گا۔سیٹھ صاحب نے فرمایا کہ اسی لئے تو میں تجھ کو ساتھ لے جانا چاہتا ہوں۔غرض میں عبدالرحمن سیٹھ کے ساتھ قادیان شریف روانہ ہوا۔راہ میں بمقام علی گڑھ کا نفرنس کا تماشہ دیکھتا اور امرتسر ہوتا ہوا قادیان