حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 288 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 288

حیات احمد ۲۸۸ جلد چهارم میں اکثر مسٹر آتھم کے پاس جاتا۔آتھم صاحب ایک ملنسار تھا۔اور چونکہ مسلمانوں کے ایک اچھے گھرانے کا آدمی تھا۔اس لئے میل جول کی عادت میں وہ رنگ باقی تھا۔میری ملاقاتوں میں دوسرے مذہبی مسائل پر تبادلہ خیال کے سلسلہ میں پیشگوئی کا ذکر بھی آتا۔اور اس کی باتوں سے ایک خوف بھی ظاہر ہوتا تھا۔اور کبھی کبھی وہ صاف الفاظ میں کہہ دیتا کہ میں مرزا صاحب کو اپنے قیام بٹالہ کے زمانہ سے جانتا ہوں وہ ایک نیک بزرگ مسلمان ہیں۔میرے حق میں پیشگوئی خوفناک ضرور ہے۔میں کہتا کہ یہ خوف تو تھوڑی سی تبدیلی سے خوشی میں تبدیل ہوسکتا ہے رجوع الی الحق سارے فکر و غم کو دور کر سکتا ہے، تو کہتا آپ نہیں سمجھ سکتے یہ تبدیلی کس قدر مشکل ہو سکتی ہے! غرض اس قسم کی باتیں وہ کرتے۔ایک مرتبہ شاہ آباد ضلع انبالہ سے ( جو ان کا وطن تھا) آم آئے۔میں اس کو ملنے کے لئے گیا۔تو وہ اپنی کوٹھی کے برآمدے میں اکڑوں بیٹھا ہوا قے کر رہا تھا۔ہاتھ کے اشارے سے مجھے بلایا اور ہاتھ کے اشارہ ہی سے ایک کمرہ کی طرف اشارہ کیا اور میں جا بیٹھا۔فارغ ہو کر منہ صاف کر کے آیا تو کہا کہ آج تو پیش گوئی پوری ہو رہی تھی۔میں نے کہا اس نے تو پورا ہونا ہی ہے آج نہ ہوگی پھر ہوگی۔کہنے لگا وطن سے آم آئے تھے۔میں شاید زیادہ کھا گیا قے شروع ہوگئی اور بہت تکلیف ہوئی۔آپ کو اشارہ سے اس لئے بلایا کہ میری بیوی تمہارے آنے کو نا پسند کرتی ہے۔وہ کہتی ہے کہ اس قادیانی کو مت آنے دو۔میں نے کہا کہ تلاشی لے لیا کرو۔خدا تعالیٰ کی پیش گوئیاں پوری ہو کر ہی رہتی ہیں اور اگر آپ کو یہ خطرہ ہے تو میں آنا ترک کر دوں گا۔کہا۔ہر گز نہیں آپ ضرور آتے رہا کریں مگر ایک بات ضرور ہے کہ آپ کی شکل دیکھ کر پیشگوئی کا اثر پڑتا ہے اور میں بھلانا چاہتا ہوں۔میں نے کہا آپ کی اہلیہ بدظن ہیں۔اور آپ بدظن تو نہیں مگر آپ کے خوف میں اضافہ ہوتا ہے میں نہیں آؤں گا۔اس نے ہر چند اصرار کیا کہ ایسا نہ کرو مگر میں نے مناسب سمجھا کہ اب نہ ملنا بہتر ہے۔آتھم کی پیشگوئی کے متعلق جو واقعات میعاد ختم ہونے پر پیش آئے اس کا ذکر اپنے موقعہ پر آئے گا۔