حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 287 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 287

حیات احمد ۲۸۷ جلد چهارم دے دیا۔مجھے میرے افسروں نے عموماً اور ایک انگریز افسر نے خصوصاً بہت سمجھایا اور استعفیٰ واپس لینے کے لئے اصرار کیا۔مگر میں نے انکار کیا اور عہد کیا کہ سرکاری نوکری نہیں کروں گا۔ترک ملازمت کے بموجب میں امرت سر آیا تو اس اثنا میں میری زبان پر ایک روز بے اختیار جاری ہوا كُنْ لِلَّهِ جَمِيعًا تو سراسر اللہ کے لئے ہو جا۔میں اس کی حقیقت کو نہ سمجھ سکا۔لیکن میری بعد کی زندگی نے اس مفہوم کو واضح کر دیا میں نے جب بعض دوستوں سے ذکر کیا تو انہوں نے استہزا کے طور پر میرا نام ہی كُنْ لِلَّهِ جَمِیعًا رکھ دیا۔میں اپنی سوانح حیات بیان نہیں کر رہا بلکہ سلسلہ میں میری زندگی کے ساتھ اس کا تعلق ہے۔اس طرح پر میں ۱۸۹۴ء کی دوسری ششماہی میں امرت سر آگیا اور میں نے اخباری زندگی کا فیصلہ کیا۔میں نے اس وقت کے اپنے موجودہ سرمایہ سے ریاض ہند کو جاری رکھنا چاہا اور کامیابی نہ ہوئی۔پھر مختلف اخبارات کی ایڈیٹری کی اور ایسی کی کہ پبلک اور حکومت نے تسلیم کر لیا۔اس کا ذکر ۱۸۹۷ء کے واقعات میں اجرائے الحکم کے سلسلہ میں آئے گا۔اب میں امرت سر میں مقیم تھا۔اور سلسلہ کی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی توفیق پا رہا تھا۔اور انجمن فرقانیہ کے نام سے پہلی انجمن جماعت میں قائم کی۔اللہ تعالیٰ کی نہاں در نہاں مشیت نے مجھے امرت سر لا بٹھایا۔اور امرت سر کے حکام اور شرفاء نے امرت سر میں مجھے اعتماد اور عزت کا شرف بخشا۔وَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَالِکَ۔مسٹر آنھم سے ملاقات قیام امرت سر کے اسباب کا تذکرہ دراصل تمہید تھی۔اس واقعہ کی جو مسٹر آئقم امرتسری کی پیش گوئی کے متعلق پیش آنے والا تھا۔میں مسٹر آتھم۔عمادالدین ( ڈاکٹر کلارک سے نہیں ) اور دوسرے مشنریوں سے بے تکلف ملتا تھا۔یہاں تک کہ ریورنڈ گرے جو ایک مشہور آنریری دولت مند مشنری تھے۔اور میرے لاہور کے واقف اور بے تکلف تھے۔وہ میری فرودگاہ پر بھی آجاتے تھے اور مباحثہ امرت سر کے محرک اور اس میں حصہ لینے والے تو علی العموم آتے جاتے۔