حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 273
حیات احمد ۲۷۳ جلد چهارم کرنا واجب ولا زم ہے۔اس جگہ سب سے پہلے یہ بات یاد رکھنے کے لایق ہے کہ صاحب معترض کا یہ مذہب ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام در حقیقت فوت ہو گئے ہیں۔جیسا کہ قرآن شریف میں بتفریح موجود ہے لیکن وہ اس بات سے منکر ہیں کہ عیسی کے نام پر کوئی اس امت میں آنے والا ہے۔وہ مانتے ہیں کہ احادیث میں یہ پیش گوئی موجود ہے۔مگر احادیث کے بیان کو وہ پایہء اعتبار سے ساقط سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ احادیث زمانہ دراز کے بعد جمع کی گئی ہیں۔اور اکثر مجموعہ احاد ہے مفید یقین نہیں ہیں اس لئے وہ مسیح موعود کی خبر کو جو احادیث کی رو سے ثابت ہے حقیقت مثبتہ خیال نہیں کرتے اور ایسے اخبار کو جو محض حدیث کی رو سے بیان کئے جائیں بیچ اور لغو خیال کرتے ہیں جن کا ان کی نظر میں کوئی بھی قابل قدر ثبوت نہیں اس لئے اس مقام میں ان کے مذاق پر جواب دینا ضروری ہے۔سو واضح ہو کہ اس مسئلہ میں دراصل تنقیح طلب تین امر ہیں۔اوّل یہ کہ مسیح موعود کے آنے کی خبر جو حد یثوں میں پائی جاتی ہے کیا یہ اس وجہ سے نا قابل اعتبار ہے کہ حدیثوں کا بیان مرتبہ ء یقین سے دور و مہجور ہے۔دوسرے یہ کہ کیا قرآن کریم میں اس پیشگوئی کے بارے میں کچھ ذکر ہے یا نہیں۔تیسرے یہ کہ اگر یہ پیشگوئی ایک ثابت شدہ حقیقت ہے تو اس بات کا کیا ثبوت کہ اس کا مصداق یہی عاجز ہے۔“ 66 (شهادة القرآن ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۲۹۷) ان ہر سہ تنقیحات پر آپ نے مبسوط بحث فرمائی تنقیح نمبر اول کے جواب میں آپ نے بڑی وضاحت کے ساتھ اس حقیقت کو نمایاں کیا ہے مختصراً ان کا کچھ اقتباس دیتا ہوں۔