حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 272
حیات احمد ۲۷۲ جلد چهارم بھی اسی خاندان کے ایک فرد ہیں۔غرض منشی عطاء محمد صاحب ( جوامرت سر میں ایک شہرت رکھتے تھے ) نے وہ خط حضرت کی خدمت میں بھیجا۔حضرت اقدس کا معمول حضرت اقدس کا یہ بھی ایک معمول تھا کہ وہ اہم معاملات مذہبی میں جو آپ کے سامنے کسی ایک فرد کی طرف سے آتے تو آپ ان کا جواب افادہ عام کے لئے بصورت کتاب شائع کرتے۔اگر چہ یہ سوال ایک فرد کی طرف سے تھا مگر آپ نے اس کا جواب ایک مستقل کتاب کی صورت میں شائع کر دیا تا کہ اس خیال کے دوسرے لوگوں کو بھی فائدہ پہنچے یہ ان کے ساتھ مخصوص نہ تھا۔آپ کی زندگی میں اس کی متعدد نظائر ہیں (۱) ایک عیسائی کے تین سوالوں کا جواب۔(۲) سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب وغیرہ خود حضرت نے جو شہادت القرآن کی وجہ تألیف میں فرمایا وہ پڑھنے کے قابل ہے۔احادیث کے متعلق ایک نیا علم اسے پیش کرنے سے پہلے میں ایک نہایت ضروری امر بیان کرنا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ آپ نے احادیث کی صداقت کے لئے ایک ایسا معیار پیش کیا جو آپ سے پہلے کسی نے پیش نہیں کیا۔وہ آپ نے اس معیار کو ایسے رنگ میں پیش کیا کہ ایک عامی اور بدوی بھی اس سے پورا فائدہ اٹھا سکتا ہے اس مسئلہ پر مبسوط بحث تو لودہانہ کے اُس مباحثہ میں ہوئی جو مولوی محمد حسین بٹالوی سے ہوا تھا۔اس مباحثہ میں تفصیل کے ساتھ آپ نے قرآن کریم کے مقام عالی اور احادیث کے مقام کو واضح کیا اس موقعہ پر چونکہ سوال کی نوعیت ایسی تھی آپ نے اس کی وضاحت کی اب آپ کے الفاظ میں شہادت القرآن کی وجہ تألیف پڑھ لیجیے۔ایک صاحب عطا محمد نام اپنے خط مطبوعہ اگست ۱۸۹۳ء میں مجھ سے دریافت کرتے ہیں کہ اس بات پر کیا دلیل ہے کہ آپ مسیح موعود ہیں یا کسی مسیح کا ہم کو انتظار