حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 266 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 266

حیات احمد ۲۶۶ جلد چهارم لئے فصیح صاحب کو دے دی چنا نچہ ا ر نومبر ۱۸۹۳ء کے مکتوب میں لکھتے ہیں رسالہ حمامة البشری جو مکہ معظمہ میں بھیجا جائے گا۔اور تفسیر سورہ فاتحہ چھپ رہے ہیں۔اب کچھ چھپنا باقی ہے۔“ فیروز پور کوروانگی مکتوبات احمد یہ جلد ۵ نمبر ۳ صفحه ۱۲۳ مکتوبات احمد جلد ۲ صفحه ۵۹۹ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) تالیفات اور طباعت کا یہ سلسلہ جاری تھا کہ آپ کو فیروز پور چھاؤنی کا سفر پیش آیا۔اس کی وجہ یہ تھی کہ حضرت میر ناصر نواب ( جو محکمہ نہر میں ملازم تھے ) اس وقت ان کا قیام فیروز پور چھاؤنی میں تھا۔اور حضرت اُم المؤمنین (نَوَّرَ اللهُ مَرْقَدَهَا ) اپنے والدین سے ملنے کے لئے وہاں جانا چاہتی تھیں۔اس طرح پر فیروز پور چھاؤنی تشریف لے جانے کا موقع پیش آیا۔چنانچہ آپ نے ۲۸ / نومبر ۱۸۹۳ء کو حضرت چودہری رستم علی صاحب کو لکھا۔بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمِ ۲۸ نومبر ۱۸۹۳ء مکرمی اخویم منشی رستم علی صاحب سَلَّمَهُ - السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ۔میں اس وقت فیروز پور چھاؤنی میں ہوں۔اتوار کو واپس قادیان جاؤں گا۔آپ اپنے حالات خیریت سے بواپسی ڈاک مجھ کو اطلاع دیں۔خدا تعالیٰ آپ کو گلی صحت بخشے۔آمین ثم آمین خاکسار غلام احمد از فیروز پور چھاؤنی نوٹ۔اس کارڈ پر مندرجہ ذیل السلام علیکم بھی لکھے ہوئے ہیں از عاجز سید محمد سعید السلام علیکم۔و نیز غلام محمد کا تب۔حامد علی السلام علیکم۔( عرفانی ) مکتوبات احمد یہ جلد ۵ نمبر ۳ صفحه ۱۲۴۔مکتوبات احمد جلد ۲ صفحہ ۶۰۰ مطبوعہ ۲۰۰۸ء)