حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 263 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 263

حیات احمد ۲۶۳ جلد چهارم بالآخر پھر میں عامہ ناس پر ظاہر کرتا ہوں کہ مجھے اللہ جل شانہ کی قسم ہے کہ میں کافر نہیں لا إلهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ الله میرا عقیدہ ہے۔اور لكِن رَّسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِيْنَ لے پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت میرا ایمان ہے۔میں اپنے اس بیان کی صحت پر اس قدرقسمیں کھاتا ہوں جس قدر خدا تعالیٰ کے پاک نام ہیں اور جس قدرقرآن کریم کے حرف ہیں اور جس قدر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خدا تعالیٰ کے نزدیک کمالات ہیں کوئی عقیدہ میرا اللہ اور رسول کے فرمودہ کے برخلاف نہیں اور جو کوئی ایسا خیال کرتا ہے خود اس کی غلط فہمی ہے اور جو شخص مجھے اب بھی کافر سمجھتا ہے اور تکفیر سے باز نہیں آتا وہ یقیناً یا د ر کھے کہ مرنے کے بعد اس کو پوچھا جائے گا۔میں اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میرا خدا اور رسول پر وہ یقین ہے کہ اگر اس زمانہ کے تمام ایمانوں کو ترازو کے ایک پلہ میں رکھا جائے اور میرا ایمان دوسرے پلّہ میں تو بفضلہ تعالیٰ یہی پلہ بھاری ہوگا۔“ کرامات الصادقین صفحه ۳ تا ۲۵۔روحانی خزائن جلد ۷ صفحه ۴۵ تا ۶۷) اب تمام واقعات قارئین کرام کے سامنے عربی تفسیر نویسی کے نشان کے متعلق پیش کر دئیے گئے ہیں یہ چیلنج اس مقام پر ختم نہیں ہو گیا البتہ مولوی محمد حسین صاحب نے اپنے فرار اور گریز سے ثابت کر دیا کہ وہ اس مرد میدان کے مقابلہ میں آنے کی ہمت نہیں رکھتا اور حضرت اقدس یہ اعلان پہلے کر چکے تھے سے چہ ہیبت با بداند این جوان را که ناید کس به میدان محمد مختلف اوقات میں اس کے بعد بھی یہ مطالبہ حضرت اقدس کا قائم رہا۔چنانچہ پیر گولڑی کو دعوت مقابلہ دی اور وہ بھی باوجود بڑے دعاوی کے میدان میں نہ آسکا تفصیلی ذکر اپنے وقت پر آۓ گا۔انشاء الله العزيز - سے ل الاحزاب سے تر جمہ۔اس جوان کو کس قدر رعب دیا گیا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے میدان میں کوئی بھی ( مقابلہ پر ) نہیں آتا۔