حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 262 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 262

حیات احمد ۲۶۲ جلد چهارم ہرگز قبول نہیں کریں گے اور اپنی پرانی عادت کے موافق ٹالنے کی کوشش کریں گے۔بات یہ ہے کہ شیخ صاحب علم ادب اور تفسیر سے سراسر عاری اور کسی نامعلوم وجہ سے مولوی کے نام سے مشہور ہو گئے ہیں مگر اب شیخ صاحب کے لئے طریق آسان نکل آیا ہے کیونکہ اس رسالہ میں صرف شیخ صاحب ہی مخاطب نہیں بلکہ وہ تمام مکفر مولوی بھی مخاطب ہیں جو اس عاجز متبع اللہ اور رسول کو دائرہ اسلام سے خارج خیال کرتے ہیں۔سولازم ہے کہ شیخ صاحب نیازمندی کے ساتھ اُن کی خدمت میں جائیں اور اُن کے آگے ہاتھ جوڑیں اور رودمیں اور ان کے قدموں پر گریں تا یہ لوگ اس نازک وقت میں اُن کی عربی دانی کی پردہ دری سے ان کو بچالیں کچھ عجب نہیں کہ کسی کو ان پر رحم آجاوے ہاں اس قدر ضرور ہے کہ اگر حنفی مولوی کے پاس جائیں تو اس کو کہدیں کہ اب میں حنفی ہوں۔اور اگر شیعہ کی خدمت میں جائیں تو کہہ دیں کہ اب میں شیعیان اہلِ بیت میں سے ہوں چنانچہ یہی وتیرہ آج کل شیخ جی کا ئنا بھی جاتا ہے لیکن مشکل یہ ہے کہ اس عاجز کو شیخ جی اور ہر یک مکفر بداندیش کی نسبت الہام ہو چکا ہے۔کہ إِنِّي مُهِيْنٌ مَنْ اَرَادَ إِهَانَتَكَ اس لئے یہ کوششیں شیخ جی کی ساری عبث ہوں گی اور اگر کوئی مولوی شوخی اور چالا کی کی راہ سے شیخ صاحب کی حمایت کے لئے اٹھے گا تو منہ کے بل گرایا جائے گا۔خدا تعالیٰ ان متکبر مولویوں کا تکبر توڑے گا۔اور انہیں دکہلائے گا کہ وہ کیوں کر غریبوں کی حمایت کرتا ہے اور شریروں کو جلتی ہوئی آگ میں ڈالتا ہے۔شریر انسان کہتا ہے کہ میں اپنے مکروں اور چالاکیوں سے غالب آجاؤں گا اور میں راستی کو اپنے منصوبوں سے مٹا دوں گا۔اور خدا تعالیٰ کی قدرت اور طاقت اسے کہتی ہے کہ اے شریر میرے سامنے اور میرے مقابل پر منصو بہ باندھنا تجھے کس نے سکھایا۔کیا تو وہی نہیں جو ایک ذلیل قطرہ رحم میں تھا۔کیا تجھے اختیار ہے جو میری باتوں کو ٹال دے۔