حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 17
حیات احمد ۱۷ جلد چهارم آئینہ کمالات اسلام کی برکات جیسا کہ اوپر کے اعلان سے ظاہر ہوتا ہے حضرت اقدس کو دو مرتبہ اس کتاب کی تصنیف کے دوران میں حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیات ہوئی اور آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے آئینہ کمالات اسلام کو اپنے ہاتھ میں لیا ہوا ہے۔اور آئینہ کمالات اسلام کے اس مقام کو دیکھ کر ( جہاں حضور علیہ الصلوۃ والسلام اور آپ کے صحابہ کی تعریف ہے ) فرمایا۔هَذَا لِيْ وَهَذَا لَاصْحَابِيْ التبليغ غرض مبشرات اور مکالمات کا ایک سلسلہ اس دوران میں جاری رہا۔آئینہ کمالات اسلام ۱۰ دسمبر ۱۹۹۲ء کو تو صفحہ ۳۵۸ پر ختم ہو گئی تھی کہ التبلیغ کی تحریک ہوئی۔یہ ایک مکتوب مکشوف ہے جو ہندوستان اور اسلامی دنیا کے سجادہ نشینوں اور صوفیوں وغیرہ کے نام ہے اس کی تحریک حضرت مخدوم الملتہ مولوی عبد الکریم صاحب رضی اللہ عنہ کے ذریعہ ہوئی۔چنانچہ حضور فرماتے ہیں۔ایک مجلس میں میرے مخلص دوست حبي في الله مولوی عبد الکریم صاحب سیالکوٹی نے بتاریخ 11 جنوری ۱۸۹۳ء بیان کیا کہ اس کتاب دَافِعُ الْوَسَاوِس میں ان فقراء اور پیرزادوں کی طرف بھی بطور دعوت اور اتمام حجت ایک خط شامل ہونا چاہیے تھا جو بدعات میں دن رات غرق اور منشاء کتاب اللہ سے بکلی مخالف چلتے ہیں اور نیز اس سلسلہ سے جس کو خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے قائم کیا ہے بے خبر ہیں۔چنانچہ مجھے یہ صلاح مولوی صاحب موصوف کی بہت پسند آئی اور اگر چہ میں پہلے بھی کچھ ذکر فقراء زمانہ حال بضمن ذکر علماء ہندوستان و پنجاب اس کتاب میں لکھ آیا ہوں لیکن میں نے باتفاق رائے دوست ممدوح کے یہی قرین مصلحت سمجھا کہ ایک مستقل خط ایسے فقراء کی طرف لکھا جائے جو شرع اور دین متین سے دور جاپڑے ہیں اور میرا ارادہ تھا کہ یہ خط اردو میں لکھوں لیکن رات کو بعض اشارات الہامی سے ایسا