حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 257 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 257

حیات احمد جلد چهارم معلوم ہو گیا کہ علم تفسیر اور علم ادب میں قتام حقیقی نے ان کو کچھ بھی حصہ نہیں دیا اور بجز لعن و طعن اور چال بازی کی مشق کے اور کچھ بھی ان کے دل اور دماغ اور زبان کو لوازم انسانیت نہیں ملی اسی وجہ سے اوّل مجھے ان کے اس قسم کے تعصبات کو دیکھ کر دل میں یہ خیال آیا تھا کہ اب ہمیشہ کے لئے ان سے اعراض کیا جائے لیکن عوام کا یہ غلط خیال دور کرنے کے لئے کہ گویا میاں محمد حسین بطالوی یا دوسرے مخالف مولوی جو اس بزرگ کے ہم مشرب ہیں۔علم ادب اور حقائق تفسیر کلام الہی میں یدطولیٰ رکھتے ہیں قرین مصلحت سمجھا گیا کہ اب آخری دفعہ اتمام حجت کے طور پر بطالوی صاحب اور ان کے ہم مشرب دوسرے علماء کی عربی دانی اور حقائق شناسی کی حقیقت ظاہر کرنے کے لئے یہ رسالہ شائع کیا جائے۔اور واضح رہے کہ اس رسالہ میں چار قصائد اور ایک تفسیر سورۃ فاتحہ کی ہے۔اور اگر چہ یہ قصائد صرف ایک ہفتہ کے اندر بنائے گئے ہیں بلکہ حق یہ ہے کہ چند ساعت میں لیکن بطالوی صاحب اور ان کے ہم مشرب مخالفوں کے لئے محض اتمام حجت کی غرض سے پوری ایک ماہ کی مہلت دے کر یہ اقرار شرعی قانونی شائع کیا جاتا ہے کہ اگر وہ اس رسالہ کی اشاعت سے ایک ماہ کے عرصہ تک اس کے مقابل پر اپنا فصیح بلیغ رسالہ شائع کردیں۔جس میں اسی تعداد کے موافق اشعار عربیہ ہوں جو ہمارے اس رسالہ میں ہیں اور ایسے ہی حقایق اور معارف اور بلاغت کے التزام سے سورہ فاتحہ کی تفسیر ہو جو اس رسالہ میں لکھی گئی ہے تو اُن کو ہزار روپیہ انعام دیا جائے گا۔ورنہ آئندہ ان کو یہ دم مارنے کی گنجائش نہیں ہوگی کہ وہ ادیب اور عربی دان ہیں یا قرآن کریم کی حقایق شناسی میں کچھ بھی ان کو مکس ہے۔اور میں نے سنا ہے کہ یہ گروہ علماء کا اپنے اپنے مکانوں میں بیٹھ کر اس عاجز کو ایک طرف تو کاذب اور دجال اور کا فرٹھہراتے ہیں۔اور ایک طرف یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ شخص سراسر جاہل ہے اور علم عربی سے بکلی بیخبر۔سواس مقابلہ سے بتمام تر صفائی ظاہر