حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 255 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 255

حیات احمد جلد چهارم علوم عربیہ سے بالکل بے بہرہ ہے اور مع ذالک دجال اور مفتری جو خدا تعالیٰ سے بھی کچھ مدد نہیں پاسکتا اور اپنی عربی دانی کو بہت گتر وفر سے بیان کیا تا اس وجہ سے اس کی عظمت دلوں میں جم جاوے اور اس عاجز کو ایک جاہل اور امی علوم عربیہ سے بیگانہ اور ملعون اور مفتری قرار دے کر یہ چاہا کہ عوام پر تمام راہیں نیک ظنی کی بند ہو جائیں لیکن عجیب قدرت خداوند تعالیٰ ہے کہ اس امر میں یہی اس نے نہ چاہا کہ بطالوی صاحب اور ان کے ہم مشرب علماء کی کچھ عزت اور راستی ظاہر ہو۔سو اگر چہ میں در حقیقت امیوں کی طرح ہوں لیکن محض اس نے اپنے فضل سے علم وادب و دقائق و حقائق قرآن کریم میں میری وہ مدد کی کہ میرے پاس ایسے الفاظ نہیں ہیں کہ میں اس خداوند کا شکر ادا کر سکوں اور مجھ کو بشارت دی کہ اگر میاں بطالوی یا کوئی دوسرا اس کا ہم مشرب مقابلہ پر آئے تو شکست فاش اٹھا کر سخت ذلیل ہوگا۔اسی بنا پر میں نے اشتہار دیا کہ میاں بطالوی پر واجب ہے کہ میرے مقابل پر قرآن کریم کی ایک سورت کی تفسیر عربی فصیح بلیغ میں لکھے جو دس جزو سے کم نہ ہو۔اور نیز ایک قصیدہ نعت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں پیش کرے جو سو شعر ہو اور ایسا ہی میرے پر واجب ہوگا کہ میں بھی اسی سورۃ کی تفسیر عربی فصیح بلیغ میں لکھوں اور نیز سو شعر کا قصیدہ بھی نعت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں تیار کروں اور پھر اگر عند المقابلہ والموازنہ میاں بٹالوی صاحب کی تفسیر اور ان کا قصیدہ میری تفسیر اور قصیدہ سے افصح اور اَبْلَغْ اور اتم اور أكْمَلْ ثابت ہوا تو میں اپنے دعوے سے تو بہ کروں گا۔اور سمجھ لوں گا کہ خدا تعالیٰ نے بٹالوی صاحب کی تائید کی اور اپنی کتابیں جلا دوں گا اور اگر میں غالب ہوا تو بٹالوی صاحب کو اقرار کرنا پڑے گا کہ وہ اپنے ان بیانات میں سراسر کا ذب اور دروغ گو تھے کہ یہ شخص مفتری اور دقبال اور کا فر اور ملعون ہے اور نیز علوم عربیہ سے ایسا جاہل کہ ایک صیغہ بھی درست طور پر نہیں آتا اور ساتھ اس کے میں نے یہ بھی لکھا تھا کہ اگر