حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 247 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 247

حیات احمد ۲۴۷ جلد چهارم جناب مولوی سید محمد احسن صاحب اور مولوی احمد اللہ صاحب اس قیام کے دوران جب میاں نبی بخش صاحب اور بعض دوسرے لوگ جو مولوی احمد اللہ صاحب کے مقتدیوں میں سے تھے تحقیقات کی منزلیں طے کر رہے تھے۔تو انہوں نے ایک دن مولوی احمد اللہ صاحب سے تبادلہ خیال کے لئے تحریک کی چونکہ مولوی احمد اللہ صاحب اہل حدیث تھے اور مولوی سید محمد احسن صاحب ایک زمانہ میں اہل حدیث کے محبوب مناظر تھے۔قرار پایا کہ مولوی صاحب کو بھیج دیا جاوے۔راقم الحروف ساتھ تھا اور بھی چند دوست تھے۔مولوی احمد اللہ صاحب بالا خانہ پر تھے نیچے کی منزل کے ایک برآمدہ میں ہم بیٹھ گئے مولوی صاحب کو جب پیغام پہنچا تو انہوں نے ملاقات سے معذوری ظاہر کی اور کہا کہ مرزا صاحب بھی جانتے ہیں کہ میں مناظرہ نہیں کرتا اور مولوی ثناء اللہ صاحب آئے اور کہا کہ اگر آپ کو مناظرہ کرنا ہے تو میں حاضر ہوں۔مولوی صاحب نے کہا (مفہوم) مولوی احمد اللہ صاحب تو ہمارے پرانے رفیقوں میں سے ہیں۔کل کے بچوں کو ان کی موجودگی میں ایسا کہنا مناسب نہیں۔آپ کو ایسا ہی شوق ہے تو ہمارے کسی شاگرد سے گفتگو کر لینا۔چنانچہ کچھ عرصہ کے بعد مولوی ثناء اللہ صاحب سے حضرت مولوی نظام الدین صاحب رنگ پوری سے اسی مکان میں (جس میں حضرت اقدس کا قیام تھا ) مباحثہ ہوا جس میں راقم الحروف کا تب اور قاری کے فرائض ادا کرتا تھا۔غرض مولوی احمد اللہ صاحب کے انکار نے ان احباب کو اور بھی مضبوط کر دیا۔اور وہ سلسلہ میں انشراح صدر سے داخل ہو گئے۔غَفَرَ اللَّهُ لَهُمْ فاتحہ خلف الامام کا مسئلہ جنڈیالہ میں جب آپ تشریف لے گئے تو وہاں مسجد میں جب آپ تشریف فرما تھے ایک شخص نے سوال کیا کہ کیا امام کے پیچھے نماز میں سورۃ الفاتحہ پڑھنا ضروری ہے۔اور آمین بِالْجَھر ضروری ہے۔آپ نے جو جواب دیا میں اس کا مفہوم بیان کرتا ہوں فرمایا