حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 246
حیات احمد جلد چهارم بہت کم تھی جو شاید چند تولہ ہو اور آپ نے اپنی تزک میں کم خوری کے مجاہدہ کے سلسلہ میں لکھا ہے کہ بہتر ہے کہ کسی قدر کھانے کو کم کروں سو میں اس روز سے کھانے کو کم کرتا گیا یہاں تک کہ میں تمام دن رات میں صرف ایک روٹی پر کفایت کرتا تھا اور اسی طرح میں کھانے کو کم کرتا گیا۔یہاں تک کہ شاید صرف چند تو لہ روٹی میں سے آٹھ پہر کے ایدصرف چندتولہ بعد میری غذا ہوتی تھی۔“ پھر اس سلسلہ میں فرمایا ”میں نے ان مجاہدات کے بعد اپنے نفس کو ایسا پایا کہ میں وقت ضرورت فاقہ کشی پر زیادہ سے زیادہ صبر کر سکتا ہوں۔میں نے کئی دفعہ خیال کیا کہ اگر ایک موٹا آدمی علاوہ فربہی کے پہلوان بھی ہو میرے ساتھ فاقہ کشی کے لئے مجبور کیا جائے تو قبل اس کے کہ مجھے کھانے کے لئے اضطرار ہو وہ فوت ہو جائے۔“ (کتاب البریہ، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۱۹۹،۱۹۸ حاشیه) آپ کا لباس دوران مباحثہ مباحثہ کے دوران اور مباہلہ تک آپ قمیص اور صدری کے بعد ایک سفید چغہ پہنے ہوئے تھے۔اور یہ سفید چغہ آخری وقت تک تھا۔اور ایک طرف سے پھٹا ہوا بھی تھا۔مگر آپ کو کبھی اس کی طرف توجہ نہ ہوئی اس لئے کہ آپ سادگی پسند تھے۔اور نمالیش کا کبھی خیال بھی نہ آ سکتا تھا۔اس سادگی میں نظافت اور طہارت کا خیال مقدم رہتا تھا۔ناسازی ء مزاج مباحثہ کے آخری ایام میں خصوصاً آخری دن سے پہلے آپ پر اسہال کا شدید دورہ ہوا۔اور رات بھر تکلیف رہی جس سے قدرتی طور پر ضعف ہوا۔مگر آپ حسب معمول پیدل تشریف لے گئے۔اور جیسا کہ آپ نے فرمایا کہ میں نے دعا کی تھی کہ دوران بحث میں حاجت نہ ہو۔اللہ تعالیٰ نے مجھے شفا دے دی اور مباحثہ خیر و خوبی سے ختم ہو گیا۔