حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 245
حیات احمد ۲۴۵ جلد چهارم مولوی احمد اللہ صاحب کی جماعت کے خاص آدمیوں میں سے تھا۔وہ گویا سَابِقُونَ الْأَوَّلُون میں ہو گئے۔پھر بعض اور دوستوں نے جو اسی سلسلہ میں تھے بیعت کی جس میں میاں چراغ دین جو ایک جوشیلا نوجوان تھا۔وہ آگے بڑھا۔اور مولوی محمد اسماعیل اور مولوی عنایت اللہ صاحب شاگرد مولوی احمد اللہ صاحب) نمایاں ہو گئے۔اسی سلسلہ میں حضرت میاں عبدالخالق صاحب ان کے بڑے بھائی اور متعدد دوستوں نے بیعت کر لی اور جماعت میں ایک مضبوطی پیدا ہوگئی۔میں نے یہ ان لوگوں میں سے بعض کا ذکر کیا ہے جو اس مباحثہ کے بعد یا تو نئے داخل ہوئے۔اور یا پہلے کچھ متوجہ تھے پھر نمایاں ہو گئے۔(۲) حضرت کا طرز عمل جب تک حضرت پہلے مکان میں (جس کا اوپر ذکر کر آیا ہوں) تشریف فرما تھے وہ نہایت تنگ تھا اور آپ کو خلوت میسر نہ تھی۔آپ مباحثہ کے بعد مکان کی چھت پر ایک دیوار کے سایہ میں ایک چھوٹی سی چٹائی پر آکر بیٹھ جاتے اور نمازوں کے سوا پھر مئی کے اواخر کی سخت دھوپ اور لو میں وہاں ہی گزارتے گویا وہ ایک قسم کا بیت الدعا تھا۔مجھے بعض اوقات بائبل کے حوالہ جات جو استاد میاں الہ دیا صاحب نکالتے لے کر جانے کا اتفاق ہوتا تو میں دیکھتا کہ صرف اُس خالی چٹائی پر آپ تشریف فرما ہیں۔کھڑکی کو ذرا دستک دینے سے کھول دیتے آپ کے پاس مرزا پور کی ٹائپ میں چھپی ہوئی بائبل ہوتی تھی اور اس پر کچھ نشان بھی کرتے اور نوٹ لکھتے بعض اوقات کھانے کا بھی اہتمام نہ رہتا۔حضرت شیخ نور احمد صاحب مالک ریاض ہند نے جو ان ابتدائی ایام میں لنگر خانہ کے بھی امرتسر میں منتظم تھے۔فرمایا کہ ایک دن ایسا بھی ہوا کہ اتفاق سے کھانا ختم ہوگیا اور آپ نے دستر خوان میں بعض ریزے ہی کھا کر پانی پی لیا اور وہ گویا قوت لَا يَمُوت بھی نہ تھے۔مگر حضرت کو ان طبعی جذبات پر بے حد قا بو تھا۔اور حقیقت میں حضرت مسیح علیہ السلام کے اس قول انسان طعام سے نہیں کلام سے زندہ ہے کا آپ ایک مجسم نمونہ تھے۔یوں بھی آپ کی خوراک