حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 244 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 244

حیات احمد ۲۴۴ جلد چهارم ملاقات کے علاوہ حضرت حکیم الامت سے استفادہ کرتے مختلف سوالات کرتے اور جواب پاتے۔اس طبقہ میں ہر مذاق کے لوگ آتے تھے۔نو تعلیم یافتہ بھی اور قدیم روش کے بھی۔مگر یہ خصوصیت رہی کہ کسی قسم کی بد تہذیبی اور بیہودگی ظاہر نہیں ہوئی اپنی مجلسوں میں مخالف الرائے علماء جو چاہتے ہوں کہتے ہوں مگر کسی میں مباحثہ کا حوصلہ نہ ہوا۔اسی بازار میں جناب مولوی احمد اللہ صاحب بھی رہتے تھے اور اس کڑہ میں کشمیری سوداگران پشمینہ اور رفوگر اور ان کے متعلق کا روباری مسلمان رہتے تھے۔اور عام طور پر یہ لوگ دیندار سمجھتے جاتے تھے ان میں اکثریت نماز کے پابند لوگوں کی تھی اور یہ لوگ مولوی احمد اللہ صاحب کے اثر کی وجہ سے علی العموم اہل حدیث تھے۔منشی محمد یعقوب نے تو میدان مباہلہ ہی میں بیعت کی مگر اس کٹڑہ میں آپ کے قیام نے بعض سعادت مند روحوں کو بیدار کیا اور اس طرح پر حضرت کے ارشاد عملاً نمایاں ہوا۔وہ خدا میرا جو ہے جوہر شناس اک جہاں کو لا رہا ہے میرے پاس میاں نبی بخش کی بیعت میاں نبی بخش مرحوم جو پہلے محض رفوگر تھے اور حضرت کی بیعت کے بعد ان کے کاروبار میں اس قدر ترقی ہوئی کہ وہ ایک مشہور تاجر پشمینہ ہو گئے جن کا کاروبار جنوبی ہندوستان اور کلکتہ تک پھیل گیا۔وہ حضرت کی مجلس میں آتے تھے اور خاموشی سے حالات کا مطالعہ کرتے تھے۔وہ کچھ بہت لکھے پڑھے آدمی نہ تھے مگر صاحب شعور تھے اور سینہ صاف تھے قبول حق کے لئے کوئی روک نہ ہوسکتی تھی۔انہوں نے بیعت میں مسابقت کی اور حضرت اقدس اور آپ کے موجودہ خدام کی ایک شاندار دعوت کی۔جس کو پشمینہ کی چادروں سے آراستہ کیا ہوا تھا۔میاں نبی بخش صاحب بھی