حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 240 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 240

حیات احمد ۲۴۰ جلد چهارم نہیں ہے کہ کوئی وعظ خاص کسی فریق کے بارہ میں مجمع عام میں کہے۔صرف دعائے مباہلہ کر کے واپس آنا ہوگا اس تاریخ کے مشتہر ہو جانے اور قرار پا جانے کے بعد حضرت مرزا صاحب نے روز مباہلہ سے دو دن پہلے یہ اشتہار بغرض اطلاع سوام مردمان شہر مشتہر کر دیا میدان عید گاہ میں جھوٹے اور بچے میں فرق ہو جانے کے لئے خدا سے دعا کی جائے گی اور حسب سنت اللہ کا ذب اور دقبال کے لئے جو دین میں فتنہ ڈالتا ہے خدا سے لعنت کا عذاب مانگا جائے گا۔سب مسلمانوں کو چاہیے کہ دعا میں شریک ہونے کے واسطے اس میدان میں قریب دو بجے کے تشریف لے چلیں چونکہ یہ معرکہ ایک نئی قسم کا تھا۔جس کا نظارہ آج تک شاید لوگوں نے نہیں دیکھا تھا جوق در جوق لوگ میدان عیدگاہ میں روز دہم ذیقعدہ بعد نماز پیشین جمع ہونے شروع ہوئے۔غزنوی صاحبان میں سے صرف عبدالحق غزنوی میدان مباہلہ میں آیا اور باقی مولویوں سے جن کے نام اشتہار میں درج ہوئے سوائے شیخ بٹالوی کے اور کوئی نہ آیا۔اس اعراض اور کنارہ کشی سے مخالف ملاؤں کا حوصلہ اور دلی قوت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔تعجب ہے کہ جب یہ لوگ حضرت اقدس مرزا صاحب کے کفر پر کسی قسم کا دلی یقین رکھتے ہیں اور ان کے الہامات کو خدائے تعالیٰ کی طرف سے نہیں سمجھتے اور افترا اور کذب یقین کرتے ہیں تو کیوں مقابلہ میں قطعی فیصلہ کرنے والے امر کو خدا تعالیٰ سے نہیں مانگتے۔صاف ثابت ہوتا ہے کہ اس شیر کے سامنے میدان میں ان کو مڑیوں کو دُم دباتے ہی بنتی ہے اور یہاں بزدلوں کی ناکامی اور نیست و نابود ہو جانے کے لئے نشانات ہیں جن کو خدا پورا کرے گا۔کل عیسائی صاحبان جو اس وقت جلسہ بحث میں آئے ہوئے تھے یہ نظارہ دیکھنے کے واسطے میدان عیدگاہ میں موجود تھے۔حضرت مقدس پہلے آکر ایک درخت کے نیچے عام انبوہ خلائق کے حلقہ میں بیٹھ گئے۔پولیس کا انتظام کافی تھا۔انسپکٹر صاحب پولیس جو انگریزی لباس پہنے ہوئے تھے اور یوروشین معلوم ہوتے تھے موجود تھے۔بٹالوی صاحب بھی آئے اور آتے ہی خلاف شرائط ممبر عید گاہ پر بیٹھ کر وعظ کرنے لگ گئے اگر چہ گلا بیٹھا ہوا تھا اور ریزش کے سبب سے آواز نہیں نکلتی تھی مگر پھر بھی نہایت زور سے چلا کر ہی اپنی عادت قدیمہ کے موافق گالیاں دینی شروع