حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 238 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 238

حیات احمد ۲۳۸ جلد چهارم منشی محمد یعقوب کی بیعت که منشی محمد یعقوب رضی اللہ عنہ جو حافظ محمد یوسف مرحوم کے بڑے بھائی تھے چیختے ہوئے دوڑ کر حضرت کے سامنے آ گرے اور کہا حضور میری بیعت قبول کریں۔یہ گویا حضرت کی صداقت اور مباہلہ کی فتح کا پہلا نشان تھا جو میدان مباہلہ میں ظاہر ہوا۔غیر مذاہب کے لوگ جو موجود تھے وہ بھی بڑے متاثر تھے اور عام مسلمانوں میں بھی نیک اثر تھا۔جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے حضرت میر حامد شاہ رضی اللہ عنہ نے جو روئداد شائع کی تھی۔درج ذیل ہے۔شیخ بٹالوی اور ان کا مباہلہ سے فرار مباہلہ کا واقعہ ہندوستان یا پنجاب میں شاید ایک پہلا واقعہ ہے مولوی صاحبان کی بے جا عداوت اور ناروا ضد نے مسلمانوں میں اس سنت الہی کو بھی اس وقت پورا کرائے بغیر نہ چھوڑا۔لعنت بازی جھوٹے اور کاذبوں کے واسطے ہر ایک الہامی کتاب میں پائی جاتی ہے۔حق کے پھیلانے والوں، صداقت کے حامیوں، حق کی طرف سے مامور ہوکر آنے والوں نے اپنے مخالفوں اور حق کے دشمنوں کو خدا کی لعنت کے عذاب سے ڈرایا ہے اور بہت سی سرکش قو میں اپنی سرکشی سے باز نہ آکر خدا کی لعنت کا اپنے اپنے وقت پر شکار ہوتی رہی ہیں۔اور بچے برگزیدوں اور حق کے پیاروں کی ہمیشہ فتح ہوتی رہی ہے مسلمانوں میں صاحب دلائل معقولی اور منقولی اور شواہد عقلی اور نقلی اور ہر طرح کی حجت تمام کرنے سے کوئی فریق اپنی ضد کو نہیں چھوڑ تا تو پھر آخری فیصلہ کی درخواست اس کچی قادر مطلق ذات سے کی جاتی ہے جو بچوں کو سچا اور جھوٹوں کو جھوٹا ٹہرا کر دنیا میں ہی اس کا نمونہ دکھا دیتا ہے اس کی جناب میں نہایت عجز وزاری سے اپنے اعتقادیات کی نسبت کچے یقین کو پیش کر کے اس کے غلط یا کفر ہونے پر اپنے لئے اس کی لعنت کا عذاب مانگنے کا