حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 223
حیات احمد ۲۲۳ جلد چهارم اخلاص مندی کے طریق کو برتا ہے۔ہر روز جلسہ میں شریک ہونا مکان پر آنا ہر ایک مَا يُحْتَاج کی ہمرسانی میں امداد دینا۔ہر ایک امر کی خبر گیری کرنا ہر ایک ایسی تحریک کو جو مقدس جناب مرزا صاحب یا ان کے رفقاء کی نسبت خلاف طور پر پیدا ہونے کا احتمال رکھتے ہوئے اس کی رفعداد میں حتی الوسع کوشش کرنا یہ سب باتیں ان عالی قدر عمائد شہر کی ہی عنایات اور توجہات خاص سے عمل میں آتی تھیں یوں تو کوئی صاحب ایسے باقی نہیں رہے کہ جنہوں نے اپنی اخلاص مندی کا ثبوت نہ دیا ہو مگر خصوصاً ذکر کے قابل حاجی میر محمود صاحب داماد خان محمد شاہ صاحب بہادر مرحوم اور ان کا گل خاندان اور جناب خواجہ یوسف شاہ صاحب اور شیخ غلام حسین صاحب آنریری مجسٹریٹ ہیں ان ہر دو صاحبان اول الذکر نے جس قدر مصروفیت اپنا وقت عزیز خرچ کر کے دکھائی ہے وہ قابل خاص شکریہ ہے ان ہر دو صاحبان کو ہماری جماعت کے بعض احباب کے ساتھ نہایت ہی محبت اور اخلاص پیدا ہو گیا تھا۔ایک خاص الفت سے ملتے اور گفتگو فرماتے تھے۔حضرت مولوی نورالدین صاحب کے ساتھ ایک نہایت محبانہ تعلق خاطر سے پیش آتے تھے اکثر موقع پر جب فرصت ہوتی برابر آکر بیٹھتے تھے۔ان رؤساء و عمائد شہر کا یہ منشا تھا کہ کسی طرح ان غلط فہمیوں کو جو مولوی صاحبان کے گروہ میں حضرت مرزا صاحب کے عقائد کی نسبت پیدا ہورہی ہیں دور کرا دیں اور اس موقع کو انہوں نے غنیمت سمجھ کر یہ ارادہ کیا کہ ایک خاص جلسہ مولوی صاحبان کا کر کے وہ عقائد جن پر کفر لازم کیا گیا ہے بمواجہ فریقین باہمی گفتگو سے جو معرض تحریر میں بھی آنی چاہیے ایک دن میں بیٹھ کر طے ہو جائیں حضرت مرزا صاحب سے اجازت طلبی پر ان اصحاب ذی مقدرت کو اختیار دیا گیا کہ جس طرح کی شرائط جس انتظام سے آپ قرار دیں ہم کو منظور ہے۔چنانچہ بذریعہ خط و کتابت ہمراہ مولوی صاحبان حاجی میر محمود صاحب و خواجہ یوسف شاہ صاحب نے بہ صلاح و مشوره شیخ غلام حسین صاحب گفتگو کی مگر جن شرائط امن پر ان صاحبان نے مولوی صاحبان کو قائل کرنا چاہا وہ مائل نہ ہوئے آخر کار بہت سے رد و قدح کے بعد مولوی صاحبان نے ان کی تجویز کردہ شرائط کے مطابق بحث کرنے سے انکار کر دیا اور صاف لکھ دیا کہ ہماری گریز تصور فرماویں