حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 222 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 222

حیات احمد ۲۲۲ جلد چهارم کہتے ہیں اور مجھے چاء کی دعوت دیتے ہیں۔میں پسند نہیں کرتا ہماری غیرت تقاضا ہی نہیں کرتی کہ ان کے ساتھ مل کر بیٹھیں سوائے اس کے کہ ان کے غلط عقائد کی تردید کریں۔حضرت کے غیرت دینی کے واقعات میں سیرت مسیح موعود حصہ دوم میں لکھ آیا ہوں۔امرتسر کے روسیا و عمانک اسلام سلسلہ حالات نامکمل رہ جائے گا اگر امرت سر کے عمائد اسلام نے جو سلوک کیا اور رویہ اس موقع پر اختیار کیا۔اس کا ذکر نہ کیا جائے۔شہر امرت سر میں حضرت اقدس جناب مرزا صاحب اور اُن کے رفقاء چند دنوں کے لئے مسافرانہ طور پر وارد ہوئے۔اس تقریب جلسہ بحث کے لحاظ سے جو عیسائی صاحبان کے ساتھ کامل پندرہ روز تک ہوئی اس میں کچھ شک نہیں کہ عام باشندگان شہر نے اپنے اپنے قدر ومرتبہ کے موافق خاص خاص ہمدردی اور الفت کا اظہار کیا میرے خیال میں تو سوائے چند ایک ضدی اور حق و باطل میں بسبب کم فہمی اور نادانی کے تمیز نہ کرنے والے اشخاص کے عموماً کل باشندگان امرت سر حضرت مرزا صاحب کی حمایت و نصرت دین اسلام اور اپنے عیش و آرام کو ترک کر کے ایسے سخت موسم گرما میں سفر اختیار کر کے حریف کے مقابل میدان میں آکھڑے ہونے پر کل مسلمانوں کے لئے ایک قابل شکر گزاری امر قرار دیتے تھے اپنی آمد ورفت اور مدارات سے جس قدر محبت اہلِ امرت سر نے جتائی ہے۔اور اس موقع پر جس قدر ان کی طرف سے خاص مراعات اسلامی عمل میں آئی ہیں شاید ہی کسی اور ایسے موقع پر عمل میں آئی ہوں۔ہر ایک طبقہ کے لائق اور ہوشیار شہر موجود تھے کیا وکلا کیا مختار ان کیا سوداگر کیا دوکاندار سب ہی تو ایک ہی قسم کی دلچسپی حضرت اقدس مرزا صاحب کے ارشادات اور ان کے رفقاء کے ساتھ رکھتے تھے سب سے بڑھ کر قابل ذکر رؤساء وعمائر شہر کی ذی قدر جماعت ہے رؤساء و عمائد شہر نے کیا بلحاظ شرکت جلسہ اور کیا بلحاظ مدارات خاص جو اس موقع پر مناسب تھیں حضرت مرزا صاحب کی نسبت ایک خاص