حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 218
حیات احمد ۲۱۸ جلد چهارم کرنے کا موقع ملے گا۔مرزا صاحب نے اگر چہ اپنے فرض منصبی کو ادا کیا ہے۔مگر میں مسلمانوں کی طرف سے خاص طور پر ان کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے تمام مسلمانوں کی طرف سے اسلام پر حملوں کا ڈیفنس کیا اور صحیح رنگ میں پیش کر کے تعلیم یافتہ لوگوں کے لئے دلچسپی پیدا کردی ہے۔اور میں ڈاکٹر کلارک صاحب کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے ہمارے لئے یہ موقع پیدا کیا اور مباحثہ میں ہر طرح امن کو قائم رکھا (یہ مفہوم تھا خواجہ صاحب کی تقریر کا ) اور فرائض صدارت کو ہر دو صاحبان نے نہایت عمدگی اور انصاف سے نبھایا۔اس کے بعد حضرت اقدس مع اپنی جماعت اور حاضرین کے فوراً روانہ ہو گئے اور راستہ میں آج نہ تو جاتی مرتبہ اور نہ واپسی کے وقت کوئی کلام فرمایا۔عجیب بات یہ ہے کہ ایک روز قبل سے آپ بوجہ دورہ اسہال بیمار تھے اور گذشتہ رات سخت تکلیف رہی۔صبح کو ضعف تو تھا اور اجابت ہوچکی تھی مگر آپ پیدل ہی تشریف لے گئے تھے۔اسی شام کو حضرت مولوی عبدالکریم صاحب رضی اللہ عنہ نے آج کا مضمون مختصر سے تمہیدی نوٹ کے ساتھ شائع کر دیا جو کثرت سے امرت سر میں تقسیم ہوا۔حضرت میر حامد شاہ صاحب نے اس مباحثہ کے خلاصہ کو اس طرح پر بیان کیا ہے۔چونکہ یہاں تک اس تحریر میں ان امورات پیش آمدہ کا تذکرہ واجبی ریمارکس کے ساتھ ہو چکا ہے جو خاص اہل اسلام اور عیسائی صاحبان کے درمیان واقع ہوئے اب نتیجہ کے طور پر یہ دکھلا نا ضرور ہے کہ ایسے جلسہ ہائے بحث کے لحاظ سے کون کون سے پہلو جمائے جاسکتے ہیں۔کہ جس کی اپنی طرز پر طے ہو جانے کے بعد یہ سمجھا جاسکتا ہے کہ کیا کامیابی اس جلسہ میں ہوئی۔پس ان پہلوؤں کو نمبر وار نیچے لکھ کر ہر ایک پہلو سے ملحوظ ریمارکس مندرجہ تحریر ہذا جو نتیجہ نکلتا ہے مختصراً اس کو درج کر دیا جاتا ہے تا کہ ناظرین کو کوئی حالت منظرہ باقی نہ رہ جائے اور اس کے بعد اس مضمون میں یہ بھی دکھایا جائے گا کہ بہ نسبت دیگر بحثوں کے اس بحث میں کیا خصوصیت تھی۔