حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 212 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 212

حیات احمد ۲۱۲ جلد چهارم مگر اس پر عیسائی صاحبان نے اعتراض کیا کہ الوہیت مسیح پر سوال کیا جاوے چونکہ حضرت کا منشا تھا کہ مناظرہ کی تکمیل ہو آپ نے اسی طریق کو منظور کر لیا۔پھر ۲۵ رمئی ۱۸۹۳ء کو آپ نے اپنا بیان ختم کرتے ہوئے فرمایا۔اب اس مقام پر ایک سچی گواہی میں دینا چاہتا ہوں جو میرے پر فرض ہے اور وہ یہ ہے جو کہ میں اُس اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتا ہوں کہ جو بگفتن قادر مطلق نہیں بلکہ حقیقی اور واقعی طور پر قادر مطلق ہے اور مجھے اُس نے اپنے فضل وکرم سے اپنے خاص مکالمہ سے شرف بخشا ہے اور مجھے اطلاع دے دی ہے کہ میں جو سچا اور کامل خدا ہوں میں ہر ا ایک مقابلہ میں جو روحانی برکات اور سماوی تائیدات میں کیا جائے تیرے ساتھ ہوں اور تجھ کو غلبہ ہو گا۔اب میں اس مجلس میں ڈپٹی عبداللہ آتھم صاحب کی خدمت میں اور دوسرے تمام حضرات عیسائی صاحبوں کی خدمت میں عرض کرتا ہوں کہ اس بات کو اب طول دینے کی کیا حاجت ہے کہ آپ ایسی پیشگوئیاں پیش کریں جو حضرت مسیح کے اپنے کاموں و فعل کے مخالف پڑی ہوتی ہیں۔ایک سیدھا اور آسان فیصلہ ہے جو میں زندہ اور کامل خدا سے کسی نشان کے لئے دعا کرتا ہوں اور آپ حضرت مسیح سے دعا کریں۔آپ اعتقاد رکھتے ہیں کہ وہ قادر مطلق ہے۔پھر اگر وہ قادر مطلق ہے تو ضرور آپ کامیاب ہو جاویں گے۔اور میں اس وقت اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اگر میں بالمقابل نشان بتانے میں قاصر رہا تو ہر ایک سزا اپنے اوپر اٹھالوں گا۔اور اگر آپ نے مقابل پر کچھ دکھلایا تب بھی سزا اٹھالوں گا۔چاہیے کہ آپ خلق اللہ پر رحم کریں۔میں بھی اب پیرانہ سالی تک پہنچا ہوا ہوں اور آپ بھی بوڑھے ہو چکے ہیں۔ہمارا آخری ٹھکانا اب قبر ہے اور اس طرح پر فیصلہ کر لیں کہ سچا اور کامل خدا بے شک بچے کی مدد کرے گا۔اب اس سے زیادہ کیا عرض کروں۔( باقی آئندہ)