حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 211 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 211

حیات احمد ۲۱۱ جلد چهارم ہے عبد اللہ آتھم صاحب کی علالت کا عذر کر کے خود ڈاکٹر کلارک صاحب نے اپنا موقف تبدیل کر لیا اور وہ فرائض صدارت چھوڑ کر مناظر کی حیثیت سے پیش ہوئے اور یہ دن انہوں نے اس لئے پسند کیا کہ آج ۲۹ رمئی کو مباحثہ کا پہلا حصہ ختم ہوتا تھا۔۲۶ مئی ۱۸۹۳ء کی روئداد کے متعلق توضیحی بیان ۲۶ رمئی کی روئداد میں ایک امر توضیح طلب ہے اس میں ایک ایسے واقعہ کا ذکر ہے جو مِنْ وَجْه ایک مطالبہ مقابلہ کا رنگ رکھتا ہے۔اور جب تک اسے پیش نہ کر دیا جاوے اس روئداد کے سمجھنے میں تسلی نہیں ہوتی۔اصل بات یہ ہے کہ حضرت اقدس نے اس مناظرہ کو اسلام اور موجودہ عیسویت کی حقانیت کے اظہار کے لئے قبول کیا تھا۔اور یہی آپ کا مقصد تھا۔چنانچہ پہلے ہی روز آپ نے اپنی تقریر کے آغاز میں بیان فرمایا اما بعد واضح ہو کہ آج کا روز ۲۲ رمئی ۱۸۹۳ ء ہے اس مباحثہ اور مناظرہ کا دن ہے جو مجھ میں اور ڈپٹی عبداللہ انتم صاحب میں قرار پایا ہے۔اور اس مباحثہ سے مدعا اور غرض یہ ہے کہ حق کے طالبوں پر یہ ظاہر ہو جائے کہ اسلام اور عیسائی مذہب میں سے کون سا مذہب سچا اور زندہ اور کامل اور منجانب اللہ ہے اور نیز حقیقی نجات کس مذہب کے ذریعہ سے مل سکتی ہے اس لئے میں مناسب سمجھتا ہوں کہ پہلے بطور کلام کلی کے اسی امر میں جو مناظرہ کی علت غائی ہے۔انجیل شریف اور قرآن کریم کا مقابلہ اور موازنہ کیا جائے لیکن یہ بات یادر ہے کہ اس مقابلہ اور موازنہ میں کسی فریق کو ہرگز یہ اختیار نہیں ہوگا کہ اپنی کتاب سے باہر جاوے یا اپنی طرف سے کوئی بات منہ پر لاوے بلکہ لازم اور ضروری ہوگا کہ جو دعویٰ کریں وہ دعوی اس الہامی کتاب کے حوالہ سے کیا جاوے جو الہامی قرار دی گئی ہے۔اور جو دلیل پیش کریں وہ دلیل بھی اسی کتاب کے حوالہ سے ہو۔کیوں کہ یہ بات بالکل کچی اور کامل کتاب کی شان سے بعید ہے کہ اس کی وکالت اپنے تمام ساختہ پر داختہ سے کوئی دوسرا شخص کرے اور وہ کتاب بکلّی خاموش اور ساکت ہو۔