حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 210
حیات احمد ۲۱۰ جلد چهارم کرنے والے اور قرآن کریم کے احکام کے نیچے تابعدار ہیں۔اور میرا دعویٰ قرآن کریم کے مطابق صرف اتنا ہے کہ اگر کوئی حضرت عیسائی صاحب اس نجات حقیقی کے منکر ہوں جو قرآن کریم کے وسیلہ سے مل سکتی ہے تو انہیں اختیار ہے کہ وہ میرے مقابل پر نجات حقیقی کی آسمانی نشانیاں اپنے مسیح سے مانگ کر پیش کریں۔مگر اب بالخصوص رعایت شرائط بحث کے لحاظ سے میرے مخاطب اس بارہ میں ڈپٹی عبداللہ صاحب ہیں۔صاحب موصوف کو چاہیے کہ انجیل شریف کی علامات قرار دادہ کے موافق سچا ایماندار ہونے کی نشانیاں اپنے وجود میں ثابت کریں اور اس طرف میرے پر لازم ہوگا کہ میں سچا ایماندار ہونے کی نشانیاں قرآن کریم کے رو سے اپنے وجود میں ثابت کروں مگر اس جگہ یادر ہے کہ قرآن کریم ہمیں اقتدار نہیں بخشتا بلکہ ایسے کلمہ سے ہمارے بدن پر لرزہ آتا ہے۔ہم نہیں جانتے کہ وہ کس قسم کا نشان دکھلائے گا وہی خدا ہے اور اس کے سوا اور کوئی خدا نہیں۔ہاں یہ ہماری طرف سے اس بات کا عہد پختہ ہے جیسا کہ اللہ جل شانہ نے میرے پر ظاہر کر دیا ہے کہ ضرور مقابلہ کے وقت میں فتح پاؤں گا مگر یہ معلوم نہیں کہ خدا تعالیٰ کس طور سے نشان دکھلائے گا۔اصل مدعا تو یہ ہے کہ نشان ایسا ہو کہ انسانی طاقتوں سے بڑھ کر ہو یہ کیا ضرور ہے کہ ایک بندہ کو خدا ٹھہرا کر اقتدار کے طور پر اس سے نشان مانگا جائے۔ہمارا مذہب یہ نہیں اور نہ ہمارا یہ عقیدہ ہے اور جل شانہ ہمیں صرف عموم اور کلی طور پر نشان دکھلانے کا وعدہ دیتا ہے۔اگر اس میں میں جھوٹا نکلوں تو جو سزا آپ تجویز کریں خواہ سزائے موت ہی کیوں نہ ہو مجھے منظور ہے۔لیکن اگر آپ حد اعتدال و انصاف کو چھوڑ کر مجھ سے ایسے نشان چاہیں گے جس طرز سے حضور مسیح بھی دکھلا نہیں سکے بلکہ سوال کرنے والوں کو ایک دو گالیاں سنادیں تو ایسے نشان دکھلانے کا دم مارنا بھی میرے نزدیک کفر ہے۔ازالہ ندامت کی ایک اور تجویز اس روز جو ندامت ڈاکٹر صاحب اور ان کے رفقاء کو پیش آئی اس کے ازالہ کے لئے ایک اور تجویز سوچی گئی اور یہ عذر گناہ بدتر از گناہ تھا۔چنانچہ جیسا کہ ۲۹ رمئی کی روئداد سے ظاہر ہوتا