حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 208
حیات احمد ۲۰۸ جلد چهارم مسیح تو یہ بھی فرماتے ہیں کہ اگر تم میں رائی کے دانہ برابر بھی ایمان ہوتا تو اگر تم پہاڑ کو کہتے کہ یہاں سے چلا جا تو وہ چلا جاتا۔مگر خیر میں اس وقت پہاڑ کی نقل مکانی تو آپ سے نہیں چاہتا کیونکہ ہماری اس جگہ سے دور ہیں لیکن یہ تو بہت اچھی تقریب ہوگئی بیمار تو آپ نے ہی پیش کر دئیے۔اب آپ ان پر ہاتھ رکھو اور چنگا کر کے دکھلاؤ ورنہ ایک رائی کے دانہ کے برابر بھی ایمان ہاتھ سے جاتا رہے گا۔مگر آپ پر یہ واضح رہے کہ یہ الزام ہم پر عائد نہیں ہوسکتا۔کیونکہ اللہ جَلَّ شَانُه نے قرآن کریم میں ہماری یہ نشانی نہیں رکھی کہ بالخصوصیت تمہاری یہی نشانی ہے کہ جب بیماروں پر ہاتھ رکھو گے تو اچھے ہو جائیں گے۔ہاں یہ فرمایا ہے کہ میں اپنی رضا اور مرضی کے موافق تمہاری دعائیں قبول کروں گا۔اور کم سے کم یہ کہ اگر ایک دعا قبول کرنے کے لائق نہ ہو اور مصلحت الہی کے مخالف ہو تو اس میں اطلاع دی جائے گی۔یہ کہیں نہیں فرمایا کہ تم کو یہ اقتدار دیا جائے گا کہ تم اقتداری طور پر جو چاہو وہی کر گزرو گے۔مگر حضرت مسیح کا تو یہ حکم ہوتا ہے کہ وہ بیماروں وغیرہ کے چنگا کرنے میں اپنے تابعین کو اختیار بخشتے ہیں جیسا کہ متی ، اباب ا میں لکھا ہے ” پھر اس نے بارہ شاگردوں کو پاس بلا کے انہیں قدرت بخشی کہ ناپاک روحوں کو نکالیں اور ہر طرح کی بیماری اور دکھ درد کو دور کریں۔اب آپ کا یہ فرض اور آپ کی ایمانداری کا ضرور نشان ہو گیا کہ آپ ان بیماروں کو چنگا کر کے دکھلاویں یا یہ اقرار کریں کہ ایک رائی کے دانہ کے برابر بھی ہم میں ایمان نہیں اور آپ کو یادر ہے کہ ہر ایک شخص اپنی کتاب کے موافق مواخذہ کیا جاتا ہے۔ہمارے قرآن کریم میں کہیں نہیں لکھا کہ تمہیں اقتدار دیا جائے گا بلکہ صاف فرما دیا کہ قُل اِنَّمَا الأيتُ عِنْدَ اللهِ لے یعنی ان کو کہہ دو کہ نشان اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں جس نشان کو چاہتا ہے اسی نشان کو ظاہر کرتا ہے۔بندہ کا اس پر زور نہیں ہے کہ جبر کے ساتھ اس سے ایک نشان لیوے یہ جبر اور اقتدار تو آپ ہی کی کتابوں میں پایا جاتا ہے۔بقول آپ کے مسیح اقتداری معجزات دکھلاتا تھا اور اس نے شاگردوں کو بھی اقتدار بخشا اور آپ کا یہ عقیدہ ہے کہ ابھی حضرت مسیح زندہ حتی قیوم الانعام: ١٠