حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 205 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 205

حیات احمد ۲۰۵ جلد چهارم اگر اس فیصلہ آخری والے اشتہار میں کسی بچی فتح کا نقارہ بجانا مدنظر تھا اور دلی یقین تھا کہ عیسائی صاحبان فتح پاچکے ہیں تو صرف اپنی یکطرفہ ۲۹ مئی کے ایک بیہودہ اور طفلانہ شوخیوں کے بھرے ہوئے بیان کا اشتہار شائع کر دینا کسی شرافت اور دیانت داری کا طریق نہ تھا۔بلکہ واجب تھا کہ کم سے کم اس مسئلہ الوہیت کی مسلسل بحث کے ان بیانات فریقین میں سے جو سلسلہ وار ۲۲ رمئی روز اوّل سے بحث سے شروع تھی۔۲۹ مئی تک کی کل کارروائی فریقین کو تو چھاپ دیا جاتا۔جس میں کم سے کم حضرت مرزا صاحب کے بیانات کے جانچنے کا بھی پبلک کو موقعہ ملتا۔یہ کیسی فتح اور کیسا آخری فیصلہ تھا کہ جناب مرزا صاحب کے مدلل اور دندان شکن نورانی بیانات کو تو مخفی رکھا جاتا ہے اور سات دن کی مسلسل کار روایوں میں سے صرف ایک طرفہ بیان کو جو بے ہودہ اور لغولفاظیوں اور طفلانہ شوخیوں سے بھرا ہوا ہے اپنی جھوٹی فتح کے فروغ دینے کے لئے قبل اس کے کہ کل مضامین بحث کے دیکھنے کا پبلک کو موقع دیا جائے شائع کیا جاتا ہے۔واہ! یہ عیسائی صاحبان کی دیانت داری اور حق پسندی ہے کہ جس کی ہم کو ان سے امید ہوسکتی ہے بہت سے واقف اور تجربہ کا رگھر کے بھیدی قبل از آغاز بحث ہی یہ کہتے تھے کہ عیسائی لوگ بیجا الزاموں اور جھوٹے افتراؤں سے حق کو ٹال جاتے ہیں۔سبحان اللہ ! اس موقع پر آپ نے وہی رنگ دکھلایا شرم شرم شرم۔خیر ڈاکٹر صاحب کے لئے تو یہ شکریہ کے قابل امر ہے کہ ان کے اخیر حصہ اوّل کا ایک دن اپنے دل کے بخارات نکالنے کے واسطے مل گیا۔اور اس ایک گھنٹہ میں انہوں نے بہت سے بیچ بیچ جمع کر لئے۔مگر بہتر ہوتا کہ ڈاکٹر صاحب منصب میر مجلسی پر ہی ممتاز رہتے تاکہ ان کی لیاقت اور فہمید اور جز درسی اور باریک بینی کے جو ہر نہ کھلتے۔میں ڈاکٹر صاحب سے پوچھتا ہوں کہ جناب آپ نے جو مرزا صاحب کے مقابل اتنے بیچ جمع کر دیئے اور نتیجہ یہ نکلا کہ حضرت موصوف نے کچھ جواب نہیں دیا۔یہ کس خیال سے آپ نے کیا۔یہ تو وہی مثل ہوئی الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے۔اجی صاحب حضرت میرزا صاحب تو سائل تھے اور مجیب اور پھر ان کی طرف نسبت جواب کیسی۔حضرت موصوف نے الوہیت مسیح، کفارہ ، تثلیث ہر سہ لغویات کا ثبوت آپ سے