حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 204 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 204

حیات احمد ۲۰۴ جلد چهارم بروئے شرائط مقبولہ فریقین مقرر ہو چکی ہے اور وہ میعاد ابھی ختم نہیں ہوئی اور مباحثہ برابر جاری ہے کہ ایک یکطرفہ بیان جو سراسر لغو اور بے جا طعنہ زنی سے بھرا ہوا ہے چھاپ کر شائع کیا جاتا ہے اور اس کا نام آخری فیصلہ رکھا جاتا ہے۔کیا یہ کسی دیانت دار شخص کی شریفانہ کارروائی ہوسکتی ہے کہ کسی مباحثہ غیر مختمہ کے متعلق ان مسلسل بیانات میں سے جن کا تعلق بلحاظ سوالات و جوابات فریقین لازم ملزوم کا حکم رکھتا تھا شوخی کے رو سے پیش دستی کر کے جھوٹی فتح کی خوشی حاصل کرنے کے لئے چھاپ کر مشتہر کیا جاوے اور نہ خلاصہ بلکہ لفظ لفظ شائع کیا جائے اور ہر ایک شخص کو جو اس کا دیکھنے والا ہو ایک جھوٹی فتح کے حاصل ہونے کا دھوکہ دیا جاوے کیا یہ کارروائی قابل شرم نہیں اگر چہ اس اشتہار کے شائع کرنے والے کا نام محمد حسین مسیحی جنڈیالہ لکھا ہے کہ جس سے گویا یہ ظاہر کرنا مراد ہے کہ کوئی غیر شخص جو منجملہ فریق مباحث نہیں ہے بطور خود اس کو شائع کرتا ہو تا کہ اس دھوکہ دینے والی تحریر کے الزام اشاعت سے وہ صاحب جو فریق مباحث ہیں بری رہ سکیں مگر خود اس بیان کے لفظ بلفظ چھپ جانے سے یعنی جس طرح ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک صاحب نے جلسہ بحث میں بمنصب یکروزہ قائمقامی عبداللہ آتھم صاحب تحریر کرایا تھا قبل از شائع ہونے تحریرات مصدقہ میر مجلسان فریقین کے جیسا کہ حسب رزولیوشن پاس شدہ جلسہ ۲۳ مئی ۹۳ء قرار پا چکا تھا۔یعنی یہ کہ کوئی تحریر جو مباحثہ میں کوئی شخص اپنے طور پر قلم بند کرے قابل اعتبار نہ سمجھی جائے جب تک کہ اس پر ہر دو میر مجلس صاحبان کے دستخط نہ ہوں اس نا قابل اعتبار تحریر کا بالفظ شائع ہو جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ وہ کارروائی نہیں ہے جس کو کوئی غیر شخص نوٹوں کے ذریعہ سے تحریر کر کے شائع کرنے کا حق رکھتا ہے۔یہ تو دیانت دار اور شریف فریق مباحث کی چالبازی ہے کہ محمد حسین مسیحی جنڈیالہ کا برقعہ اوڑھ کر ناز وانداز دکھلانا ہے ان چالبازیوں اور دھوکہ دہیوں کو کون نہیں سمجھتا۔ے تو خوا ہے جامہ پوش و خواہ قبا پوش بہر رنگے کہ آئی مے شناسم ترجمہ تم خواہ جبہ پوش ہو آؤیا قبا پوش ، تم جس رنگ میں بھی آؤ میں تمہیں پہچانتا ہوں۔