حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 197
حیات احمد ۱۹۷ جلد چهارم ڈاکٹر کلارک کا ایک اور منصوبہ جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے ڈاکٹر کلارک نے اس موت (مباحثہ ) کے پیالے کو ٹلانے کی بہت کوشش کی اور بالآخر جب مباحثہ کا آغاز ہو گیا تو انہیں صاف طور پر نظر آ گیا کہ ہر نیا دن ان کی ناکامی کو روشن کر رہا ہے اور خود عیسائی اکا بر پادری عمادالدین وغیرہ نے ان کو یقین دلایا کہ اس مباحثہ میں ہماری شکست یقینی ہے اور کسی طرح راہ فرار بھی نظر نہ آتی تھی اس لئے ڈاکٹر صاحب نے پہلے حصہ کے ختم پر ۲۹ مئی ۱۸۹۳ء کو مسٹر آتھم کی بجائے خود مناظر کی حیثیت حاصل کرنے کی کوشش کی۔چنانچہ مسٹر آتھم کو مریض قرار دے کر یہ چاہا کہ اُن کی بجائے خود ڈاکٹر صاحب مباحث ہوں۔ان کو خیال تھا کہ حضرت اقدس اس تجویز کو تسلیم نہیں کریں گے۔اور آخر مباحثہ ختم ہو جائے گا اور چونکہ اس روز آخری پر چہ عیسائی صاحبان کا تھا۔جس کا جواب حضرت اقدس کو دینے کا موقع نہ ملے گا۔اور اس طرح پر فتح کا نقارہ بجا دیا جائے گا۔اس میں کچھ شک نہیں کہ منصو بہ تو خوب سوچ سمجھ کر بنایا گیا تھا مگر حضرت اقدس کو اللہ تعالیٰ نے ایک خاص نور فراست عطا فرمایا تھا۔اور آپ احقاق حق چاہتے تھے آپ نے اس تجویز کو بشرح صدر قبول کر لیا۔اور پہلے ہی قدم پر ڈاکٹر صاحب کا منصوبہ خاک میں مل گیا۔اس دن کے لئے پادری احسان اللہ صاحب کو پریذیڈنٹ مقرر کر دیا۔اور آپ مناظر کی حیثیت میں فرش زمین پر آتھم کے مقام پر آبیٹھے اور جس طریق پر اس حیثیت کا ناجائز فائدہ اٹھایا وہ ان کے بیان کو پڑھنے والوں کو معلوم ہوسکتا ہے۔غیر مہذب طعن و استہزا اور کلام میں سختی تا کہ ناراض ہو کر بطور احتجاج ہی مباحثہ بند ہو جائے یہ تمام منصو بے دھرے رہ گئے۔حضرت اقدس نے ان کو اپنے دل کا بخار نکالنے کا پورا موقع دیا۔اور یہ موقع دینا ہی کلارک کو اپنی شکست کے فیصلہ پر خود دستخط کرنا تھا۔اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اسی روز ایک اشتہار جو گویا پہلے سے تیار کر رکھا تھا۔عیسائیوں کی طرف سے شائع کر دیا اور اپنے خیال میں فتح کا ڈنکا بجا دیا۔مگر اس پر ایک رات نہ گزری تھی کہ میاں محمد اسماعیل ساکن جنڈیالہ نے اس کا