حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 194 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 194

حیات احمد ۱۹۴ جلد چهارم اُس حالت میں کر سکتے ہیں کہ جب پہلے اس بنا کا استیصال کیا جاوے، بنا کو کیونکر کہہ سکتے ہیں کہ بے تعلق ہے بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ رحم بلامبادلہ بنائے فاسد پر فاسد ہے۔عیسائی جماعت تو مرزا صاحب کے مضمون کو خلاف شرائط قرار دینے پر زور دیتی رہی۔اور اسلامیہ جماعت اس مضمون کو خلاف شرائط قرار نہ دیتی رہی۔پادری عمادالدین صاحب کی یہ رائے تھی اور انہوں نے کھڑے ہو کر صاف لفظوں میں کہہ دیا کہ میر مجلسوں کا منصب نہیں کہ مباحثین کو جواب دینے سے روکیں مگر میر مجلس عیسائی صاحبان کے سوال کرنے پر انہوں نے یہی کہا کہ مضمون مرزا صاحب کا خلاف شرط ہے اور مسٹر عبد اللہ آتھم صاحب نے کہا کہ کسی قدر خلاف شرط تو ہے تا ہم درگزر کرنا چاہیے۔میر مجلس اہل اسلام نے کہا یہ مضمون ہرگز خلاف شرط نہیں اس لئے ہم آپ کا درگز رنہیں چاہتے ایک عرصہ تک اس امر پر تنازعہ ہوتا رہا۔اسی عرصہ میں ڈپٹی عبد اللہ آتھم صاحب نے کہا کہ اگر میرے چیئر مین صاحب مجھے مرزا صاحب کے لفظ لفظ کا جواب دینے دیں گے تو میں دوں گا ورنہ میں نہیں دیتا۔مگر میر مجلس صاحب اہل اسلام نے ڈپٹی صاحب کو کہا کہ آپ کو جواب لکھنے کے لئے میر مجلسوں سے ہدایت لینے کی کچھ ضرورت نہیں۔آپ کو اختیار ہے کہ جس طرح چاہیں جواب دیں۔لیکن میر مجلس عیسائی صاحبان نے ڈپٹی صاحب کو روکا اور کہا میں اجازت نہیں دیتا۔اگر آپ ایسا کریں گے تو میر مجلسی سے استعفیٰ دے دوں گا۔کیونکہ یہ خلاف شرط ہے۔پھر تھوڑی دیر کے لئے تنازعہ ہوتا رہا۔اور آخر کار یہ قرار پایا کہ آئندہ کے لئے مباحثین میں سے کسی کو جواب دینے سے روکا نہ جائے انہیں اختیار ہے کہ جیسا چاہیں جواب دیں۔بعد ازاں ڈپٹی عبداللہ آتھم صاحب نے ۸ بجے ۵۳ منٹ پر جواب لکھانا شروع کیا اور ۹ بجے ۵۰ منٹ پر ختم کیا اور مقابلہ کر کے بلند آواز سے سنایا گیا۔بعد ازاں تحریروں پر میر مجلس صاحبان کے دستخط کئے گئے اور چونکہ مرزا صاحب کے جواب کے لئے پورا وقت باقی نہ تھا اس لئے جلسہ برخاست ہوا۔