حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 193
حیات احمد ۱۹۳ جلد چهارم صاحب نے سوال لکھانا شروع کیا اور ے بجے ۲۰ منٹ پر ختم کیا اور بلند آواز سے سنایا گیا۔مرزا صاحب نے ۶ بجے ۲۷ منٹ پر جواب لکھانا شروع کیا اور ے بجے ۲۷ منٹ پر ختم کیا۔مرزا صاحب کے جواب لکھانے کے عرصہ میں میر مجلس عیسائی صاحبان نے بدوں میر مجلس اہل اسلام کے ساتھ اتفاق کرنے کے انہیں روکنے کی کوشش کی اور اپنے کاتبوں کو حکم دیا کہ وہ مضمون لکھنا بند کر دیں۔مگر میر مجلس اہل اسلام کی اجازت سے مرزا صاحب برا بر مضمون لکھاتے رہے اور ان کے کا تب برابر لکھتے رہے۔میر مجلس عیسائی صاحبان کی یہ غرض تھی کہ مرزا صاحب مضمون کو بند کریں۔اور میر مجلس عیسائی صاحبان ایک تحریک پیش کریں کیونکہ ان کی رائے میں مرزا صاحب خلاف شرط مضمون لکھاتے رہے تھے۔لیکن جب ان کی رائے میں مرزا صاحب شرط کے موافق مضمون لکھانے لگے تو انہوں نے اپنے کا تہوں کو مضمون لکھنے کا حکم دے دیا۔میر مجلس صاحب اہل اسلام کی یہ رائے تھی کہ جب تک مرزا صاحب مضمون ختم نہ کرلیں کوئی امر انہیں روکنے کی غرض سے پیش نہ کیا جائے کیونکہ ان کی رائے میں کوئی امر مرزا صاحب سے خلاف شرائط ظہور میں نہیں آرہا تھا۔چنانچہ مرزا صاحب برابر مضمون لکھاتے رہے اور اپنے وقت کے پورے ہونے پر ختم کیا۔اور مقابلہ کے وقت عیسائی کا تہوں نے اس حصہ مضمون کو جو وہ اپنے میر مجلس کے حکم کے بموجب چھوڑ گئے تھے بموجب ارشاد اپنے میر مجلس کو پھر لکھ لیا۔اب یہ امر پیش ہوا کہ مرزا صاحب نے جو جواب لکھایا ہے اس کے متعلق میر مجلس عیسائی صاحبان اور عیسائی جماعت کی یہ رائے ہے کہ وہ خلاف شرائط ہے کیونکہ اولاً اس ہفتہ میں وقت ہے کہ مسیحی اہل اسلام سے دین محمدی کے حق میں سوال کریں اور نہ یہ کہ محمدی صاحب مسیحوں سے دین عیسوی کے حق میں جواب طلب کریں۔ثانیاً فی الحال عبد اللہ آتھم صاحب کی طرف سے سوال مسئلہ رحم بلا مبادلہ در پیش ہے اور مرزا صاحب جواب طلب کرتے ہیں دربارہ الوہیت مسیح کے میر مجلس صاحب اسلام کی یہ رائے تھی کہ خلاف شرائط ہرگز نہیں ہے بلکہ عین مطابق شرائط ہے اور ساتھ ہی مرزا صاحب نے بیان فرمایا کہ جواب ہرگز خلاف شرائط نہیں کیونکہ سوال رحم مبادلہ کی بنا الوہیت صحیح ہے اور ہم مسئلہ رحم بلا مبادلہ کا پورا رڈ