حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 191
حیات احمد 191 جلد چهارم صاحبان کے دستخط ہی کافی متصور ہیں۔مباحثہ کے متعلق یہ قرار پایا کہ اہل اسلام کی طرف سے منشی غلام قادر صاحب فصیح اور مرزا خدا بخش صاحب اور عیسائی صاحبان کی طرف سے بابوفخر الدین اور شیخ وارث الدین صاحب ایک جگہ بیٹھ کر فیصلہ کریں اور رپورٹ کریں کہ مباحثہ کی کس قدر قیمت مناسب مقرر کی جاسکتی ہے اس کے بعد عیسائی صاحبان کی طرف سے بتایا جائے گا کہ وہ کس قدر کا پیاں خرید سکیں گے اور یہ مباحثہ جسے عیسائی صاحبان خریدیں گے اسی طرح چھپا ہوا ہوگا کہ روئداد اور مصدقہ مضامین میں فریقین کے لفظ بہ لفظ اس میں مندرج ہوں گے۔کسی فریق کی طرف سے اس میں کمی بیشی وغیرہ نہیں کی جائے گی۔بجے ۳۰ منٹ پر مسٹر عبد اللہ آتھم صاحب نے جواب لکھانا شروع کیا اور ے بجے ۳۰ منٹ پر ختم ہوا۔اور بعد مقابلہ بلند آواز سے سنایا گیا۔مرزا صاحب نے ۸ بجے ۵ منٹ پر جواب لکھانا شروع کیا اور ۹ بجے ۵ منٹ پر ختم ہوا۔اور اس کے بعد ایک امر پر تنازعہ ہوتا رہا جس کا اسی وقت فیصلہ کر کے ہر دو میر مجلسوں کے اس پر دستخط کئے گئے جو اس کارروائی کے ساتھ ملحق ہے۔چونکہ مسٹر عبد اللہ آتھم صاحب بیمار تھے اور انہوں نے اپنے آخری جواب میں ایک پہلے سے لکھی ہوئی تحریر پیش کر کے کہا کہ کوئی اور صاحب ان کی طرف سے سناویں۔اس لئے میر مجلس اہل اسلام نے اعتراض کیا کہ ایسی تحریر پہلے سے لکھی ہوئی پیش کی جانی خلاف شرائط ہے۔چنانچہ اس پر ایک عرصہ تک تنازعہ ہوتا رہا۔آخر کار یہ قرار پایا کہ سوموار کا ایک دن اس زمانہ مباحثہ میں ایزاد کیا جائے۔اور ایسا ہی دوسرے زمانہ میں بھی ایک دن اور بڑھا دیا جائے۔علاوہ برائیں یہ بھی مرزا صاحب کی رضامندی سے قرار پایا کہ اس سوموار کے روز مسٹر عبداللہ آتھم صاحب خدانخواستہ صحت یاب نہ ہوں تو ان کی جگہ کوئی اور صاحب مقرر کئے جاویں اور اس امر کا اختیار ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک صاحب کو ہوگا۔یہ بھی قرار پایا کہ ۲۹ تاریخ کو آخری جواب مرزا صاحب کا ہوگا۔وقت کا لحاظ نہ ہوگا اور ا اجے کے اندر اندر کارروائی ختم ہوگی یعنی آخری زمانہ مجیب کا حق ہوگا کہ