حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 10 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 10

حیات احمد جلد چهارم چونکہ نہر خشک تھی ہمیں نہر کا پتہ بھی نہ لگا۔اور یہ پہلی غلطی ہوئی۔نتیجہ یہ ہوا کہ قادیان کا موڈ ہم گزر کر آگے چلے گئے اور مجھے تعجب ہوتا تھا کہ نہر کیوں نہیں آئی یہاں تک کہ ہم ہر چوال کی نہر پر پہنچے۔وہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ ہم راستہ بھول گئے ہیں اور یہ بھی وہاں کے ایک چوکیدار سے معلوم ہوا۔تھکان تو تھی مگر شوق نے اسے محسوس نہ ہونے دیا۔لیکن جب یہ معلوم ہوا کہ راستہ بھول گئے ہیں تو بڑا بوجھ طبیعت پر ہوا۔میں جوان تھا طبیعت میں تیزی اور غصہ تھا۔راہنما پر خفا ہونے لگا کہ تم نے دعوی کیا تھا کہ راستہ جانتا ہوں۔مگر اس کا کچھ نتیجہ نہ تھا۔۔اس نے مشورہ دیا کہ اب رات بہت ہوگئی ہے یہاں کوٹھی کے برآمدے میں پڑے رہتے ہیں دن نکلتے ہی چلیں گے۔اس وقت سفر مناسب نہیں۔میں نے ضد کی کہ ابھی واپس چلو۔غرض ہم واپس ہوئے اور لیل کے پاس پہنچ کر بجائے قادیان کی طرف جانے کے لیل کی طرف جو موڑ تھا اُدھر چل پڑے تھوڑی دور گئے تھے کہ لیل کی بستی سے چار پانچ سکھ ادھر آتے ہوئے ملے۔وہ مسلح تھے لاٹھی اور کلہاڑی سے انہوں نے ہیبت ناک آواز میں پوچھا کون ہو کہاں جاتے ہو۔میں نے کہا کہ قادیان جانا ہے۔اس پر ان کی آواز میں خشونت کی بجائے نرمی پیدا ہوئی اور کہا یہ تو لیل کا راستہ ہے چلو سڑک پر تم کو قادیان کا راستہ بتا دیتے ہیں۔مرزا صاحب کے پاس جانا ہوگا۔میں نے کہا ہاں سردار صاحب وہاں ہی جانا تھا۔یہ میرا ساتھی راستہ بھول گیا انہوں نے کہا اب قادیان دور نہیں تم کو سیدھے راستہ پر ڈال دیتے ہیں۔آنکھیں بند کر کے چلے جاؤ۔مرزا صاحب کے باغ کے پاس راستہ ان کے گھر کے قریب ہی نکلتا ہے۔غرض وہ سڑک پر آئے اور قادیان کے راستہ پر ہم کو ڈالا۔میں آج ساٹھ سال کے بعد اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے ان کے لئے دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ انہیں اپنے دامنِ رحمت میں جگہ دے۔مجھ پر اس وقت اور آج بھی یہ اثر تھا اور ہے کہ یہ حضرت اقدس کی روحانی قوت کا تصرف تھا کہ جن کو میں نے اس وقت دشمن سمجھا تھا اور ایسے وقت میں اُن کا مسلح ہو کر نکلنا کچھ معنے رکھتا تھا اللہ تعالیٰ نے ان کو میرے لئے اس سفر کے مقصد نیک کی وجہ سے رہنما بنا دیا۔