حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 187
حیات احمد ۱۸۷ جلد چهارم صاحب آج تشریف نہیں لائے تھے اس لئے آج کے دن ان کی بجائے پادری احسان اللہ صاحب معاون مقرر کئے گئے۔سوا چھ بجے مرزا صاحب نے سوال لکھانا شروع کیا۔اور سواسات بجے ختم کیا۔اور بلند آواز سے جلسہ کو سنایا گیا۔پھر ڈپٹی عبداللہ آتھم صاحب نے اپنا اعتراض پیش کرنے میں صرف پانچ منٹ خرچ کئے۔پھر مرزا صاحب نے جواب الجواب لکھایا۔مگر اس پر یہ اعتراض پیش ہوا کہ مرزا صاحب نے جو سوال لکھایا ہے وہ شرائط کی ترتیب کے موافق نہیں یعنی پہلا سوال الوہیت مسیح کے متعلق ہونا چاہیے۔اس پر شرائط کی طرف توجہ کی گئی انگریزی اصلی شرائط اور ترجمہ کا مقابلہ کیا گیا۔اور معلوم ہوا کہ مرزا صاحب کے پاس جو تر جمہ ہے اس میں غلطی ہے۔بنابر آن اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ الوہیت مسیح پر سوال شروع کیا جائے اور جو کچھ اس سے پہلے لکھایا گیا ہے اپنے موقعہ پر پیش ہو۔بجے ۲۶ / منٹ پر مرزا صاحب نے الوہیت مسیح پر سوال لکھا نا شروع کیا۔۹ بجے ۱۵ منٹ پر ختم کیا۔اور بلند آواز سے سنایا گیا۔مسٹر عبد اللہ آتھم صاحب نے 9 بجے ۳۰ منٹ پر سوال لکھانا شروع کیا اور ان کا جواب ختم نہ ہوا تھا کہ ان کا وقت گزرگیا۔اس پر میرزا صاحب اور میر مجلس اہل اسلام کی طرف سے اجازت دی گئی کہ مسٹر موصوف اپنا جواب ختم کر لیں اور پانچ منٹ زائد عرصہ میں جواب ختم کیا بعد ازاں فریقین کی تحریروں پر پریذیڈنٹوں کے دستخط ہوئے اور مصدقہ تحریریں ایک دوسرے فریق کو دی گئیں اور جلسہ برخاست ہوا۔دستخط بحروف انگریزی ہنری مارٹن کلارک پریذیڈنٹ از جانب عیسائی صاحبان۔دستخط بحروف انگریزی غلام قادر فصیح پریذیڈنٹ از جانت اہل اسلام۔رو که او ۲۳ رمئی ۱۸۹۳ء آج پھر جلسہ منعقد ہوا۔اور آج پادری ہے۔ایل ٹھا کر داس صاحب بھی جلسہ میں تشریف لائے اور یہ تحریک پیش ہوئی اور باتفاق رائے منظور ہوئی کہ کوئی تحریر جو مباحثہ میں کوئی شخص اپنے طور پر قلمبند کرے قابل اعتبار نہ کبھی جائے جب تک کہ اس پر ہر دو میر مجلس صاحبان کے دستخط نہ ہوں۔