حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 182
حیات احمد ۱۸۲ جلد چهارم صاحب کے نامکمل بیان پورا کرنے کے لئے فہرستیں تیار کرنی پڑتیں اور علاوہ بیان کے ان کے شامل کرا دینے یا کسی اور کو پڑھ کر سنا دینے کی اجازت حاصل کرنی پڑتی ہو۔اس بے ترتیبی میں کبھی کبھی باہم عیسائی صاحبان و ڈپٹی عبداللہ صاحب کے اختلاف رائے بھی ہو جاتا تھا۔اور کئی مقامات پیش کردہ معاونین سے ڈپٹی صاحب کو سر مجلس نہایت ناراضگی سے رد کرنا پڑتا تھا۔غرض جس قسم کی سرگوشیاں ہر ایک جواب کی تحریر میں عیسائی صاحبان کو کرنے کی ضرورت واقع ہوتی تھی یا مشورہ کرنے کی ہر بار حاجت پڑتی تھی خدا کا شکر ہے کہ اسلامی جماعت کے لئے اللہ تعالیٰ نے عین جلسہ بحث میں اس طرح کے اختلاف رائے کو پیدا نہیں کیا۔حضرت مقدس کے مسلسل بیانات نہایت متانت سے چلتے اور کسی کو بھی جرات نہ ہوتی تھی کہ کا، کے، کی یا تھا، تھے تھی کے حروف بھی اپنی طرف سے زائد لکھا سکیں۔چپ چاپ بیٹھ کر سنتے جاتے تھے۔نہایت متانت اور سنجیدگی اور خاص و قار برخلاف عیسائی صاحبان کے معاونین کے۔اسلامی جماعت کے معاونین میں پایا جاتا تھا۔اور ایک خاص ادب کی شان نظر آتی تھی۔دو کا تب اہل اسلام کی طرف سے یعنی خلیفہ نورالدین صاحب ساکن ریاست جموں اور منشی ظفر احمد صاحب ملازم ریاست کپورتھلہ مقرر ہوئے اور اخیر تک برابر نہایت جانفشانی اور استقلال سے تیرہ روز تک انہوں نے اس خدمت کو انجام دیا۔مگر افسوس ہے کہ عیسائی کا تبان کی تعداد جو ہر روز یا دوسرے تیسرے دن نئے نئے مقرر ہوتے تھے بیان نہیں کی جاسکتی۔ایک دو مقرر ہوں تو یادر ہے روز روز کے علاوہ ایک دو گھنٹے کے بعد ا کثر تبدیلی ہو جاتی تھی تو پھر کس طرح اسم شماری ہو۔اگر اس تحریر میں عیسائی کا تبوں کا نام نہ ملے تو عیسائی صاحبان ہمیں اپنی بے ترتیبی پر لحاظ فرما کر معذور سمجھیں بہت سی بے ترتیبیاں جو جلسہ بحث میں عیسائی صاحبان کی طرف سے واقع ہوئیں کچھ تو روئداد جلسہ میں کہیں کہیں مذکور ہیں۔اگر چہ بعض حضرات کو عمدا اندراج روئداد سے باہر رکھا گیا۔جن کا ذکر مختصر اپنے اپنے موقع پر ان ریمارکس میں آئے گا۔ہر ایک مضمون لکھے جانے کے بعد بلند آواز سے سنایا بھی جاتا تھا۔فریقین کی طرف سے سنانے والے صاحبان الگ مقرر ہوئے۔جماعت اسلامی کی طرف سے مولوی