حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 176
حیات احمد جلد چهارم کی منظوری کا اظہار کرنے کے لئے شائع ہوئے ہیں۔کیونکہ عیسائیوں نے بعد منظوری بحث یہ اعتراض اٹھایا تھا کہ ہمارا مقابلہ مسلمانوں سے ہے اور جناب مرزا صاحب کی نسبت جس صورت میں بٹالوی صاحب فتاویٰ کفر مرتب کرا کر مہریں لگا چکے ہیں تو مسلمانوں کی طرف سے ان کا فریق مباحث ہونا کس طرح جائز متصور ہو سکتا ہے۔اپنی اس وکالت کا پہلے وہ مسلمانوں سے تصفیہ کر لیں پھر ہم سے بحث کریں اور اسی طرح کی اور بھی باتیں نسبت اعتقادیات جناب مرزا صاحب بحوالہ کفر نامہ مولوی بٹالوی، عیسائی صاحبان نے مقرر کر رکھی تھیں۔مگر امرت سر کے بعض تجربہ کار حالاتِ زمانہ سے واقف مولوی صاحبان نے عیسائیوں کی اس مشت بعد از جنگ کو ان کے اپنے سروں پر ہی دے مارا۔اور ایسے دندان شکن جواب دیئے کہ عیسائی صاحب اپنا منہ لے کر رہ گئے اور آخر کار بڑی معذوری اور مجبوری سے ان کو حضرت مقدس جناب مرزا صاحب سے مقابلہ کرنا ہی پڑا۔اور کسی طرح سے وہ خود اپنی قرار دادہ شرائط کو ان ناجائز حیلہ سازیوں سے اپنے سروں سے ٹال نہ سکے یہ بات کہ کیوں عیسائی صاحبان با وجود پہلی نہایت یقینی طور پر شرائط مقرر کر چکنے کے یک بیک ہراساں ہوکر بحث سے پہلو تہی کرنے لگے پر سبب نہیں۔دراصل وجہ یہ ہے کہ ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک صاحب نے حضرت اقدس جناب مرزا صاحب کے کمیشن پہنچنے پر بلا مشورہ دیگر معزز عیسائی صاحبان کے ایک فوری جوش میں آکر جناب مرزا صاحب موصوف کی درخواست کو منظور کر لیا تھا۔شاید وہ حضرت مقدس کے کمالات سے چنداں واقف نہ تھے۔اور جب سے وہ ولایت سے ہندوستان میں آئے ان کو میرزا صاحب کے کمالات کو پورے طور پر سمجھنے کا موقعہ نہیں ملا تھا وہ ایک ناواقفی کی حالت میں اتفاقیہ پھندے میں پھنس گئے۔مگر جب پیچھے سے ان کے دیگر معزز احباب نے انہیں قائل کیا کہ یہ ایک بے جا اور نامناسب حرکت ہوئی ہے تو انہیں فکر پڑی۔بیرونجات کے بھی اکثر اہل الرائے عیسائی صاحبان نے ان کی اس حرکت پر اظہار پسندیدگی نہ کیا۔پس جس قدر حیلہ بازیاں اور ناجائز خلاف شرائط عذرات عیسائی صاحبان کی طرف سے حضرت اقدس جناب مرزا صاحب کو حریف مقابل بنانے کے لئے ظہور میں آئے وہ اسی کا نتیجہ تھے۔افسوس سے اس بات کا بھی اظہار کیا جاتا ہے کہ اس بحث کے ملتوی ہو جانے اور