حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 175
حیات احمد ۱۷۵ جلد چهارم ۲۰ مئی ۱۸۹۳ء کو بوقت ۵ بجے امرتسر کے اسٹیشن پر پہنچنے کا اتفاق ہوا۔درمیان سفر میں بہت سی خبریں اس طرح کی سننے میں آئیں کہ عیسائی صاحبان نے اس جلسہ بحث کے منعقد ہونے سے اعراض کیا ہے اور انہوں نے اس جنگ میں حضرت مقدس جناب مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کو اپنا حریف مقابل ہونے سے بعد قرار داد شرائط کے انکار کر دیا ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ شاید یہ بحث ملتوی ہو جائے مگر پلیٹ فارم پر اترنے سے معلوم ہوا کہ حضرت مقدس جناب مرزا صاحب موصوف ابھی اس گاڑی میں بٹالہ کی طرف سے تشریف لاتے ہیں۔چنانچہ تھوڑی دیر کے بعد گاڑی اسٹیش پر پہنچی اور حضرت مقدس موصوف جمعیت حضرت مولوی نورالدین صاحب بھیروی و دیگر رفقاء تشریف لے آئے۔عدم انعقاد جلسہ کے بارہ میں جو ایک تشویش پیدا ہورہی تھی وہ کسی قدر دفع ہوئی۔حضرت موصوف کی تشریف آوری ہی جب اسی غرض کے واسطے تھی تو ثابت ہوا کہ التوا جلسہ بحث کی خبر یقینی نہیں ہے۔حضرت مقدس موصوف سے نیاز حاصل کرنے کے بعد بسواری گاڑی شہر کو روانہ ہوئے۔کچھ عرصہ اسباب متعلقہ ڈیرہ ہمراہیان حضرت موصوف کے لدوانے میں صرف ہوا۔شہر میں پہنچ کر مطبع ریاض ہند کے ملحقہ مکانات میں رہنے کا اتفاق ہوا۔اگر چہ مکانات تنگ اور قابل گنجائش نہ تھے مگر جب تک کہ کوئی مکان کافی دستیاب نہ ہو سکے سردست اسی مکان میں ٹھہرنے کا اہتمام کیا گیا۔اکثر واردین و صادر بین جو اس جنگ میں شریک ہونے کی غرض سے ہمرکاب حضرت مقدس حاضر ہوئے تھے۔کچھ تو ان مکانات میں فروکش ہوئے اور کچھ دیگر مکانات میں جو علیحدہ تھے مگر قریب اتر پڑے بعض مسافرین کو میاں خیر الدین صاحب مرحوم کی مسجد کے وسیع صحن میں دو تین دن رات بسر کرنے کا فخر حاصل ہوا۔اور مسجد موصوف کی کھلی فضا اور کثرت آب سے حظ اٹھانا نصیب ہوا۔اسی دن بہت سے اشتہارات منجانب مسلمانان جنڈیالہ و دیگر اہالیان امرتسر جن میں ایک دو مولوی صاحبان کے نام بھی تھے مشتہر ہوتے نظر آئے جن کے دیکھنے سے معلوم ہوا کہ عیسائی صاحبان نے جو بعد قرار داد شرائط و منظوری بحث کے حضرت مقدس جناب مرزا صاحب کے حریف مقابل بننے سے انکار کیا ہے یہ اشتہار عیسائیوں کی روگردانی کا جواب ہیں۔جو حضرت مرزا صاحب کی حمایت اور مسلمانوں کی طرف سے ان کے فریق مباحث