حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 169 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 169

حیات احمد ۱۶۹ جلد چهارم جنگِ مقدس میں معیار کامیابی شرائط کے تصفیہ وغیرہ ہو جانے اور تاریخ آغاز مباحثہ قرار پا جانے کے بعد آپ نے مناسب سمجھا کہ اس تمام روئداد کو حجتہ الاسلام کے نام سے شائع کر دیا جاوے۔تاکہ فریق ثانی کو آئندہ گریز کا موقعہ نہ ملے اور صداقت اسلام کا اظہار علی رؤس الا شہاد ہو اس لئے آپ نے حجۃ الاسلام کے ٹائیٹل پیج پر اس معیار صداقت کا بھی اعلان کر دیا۔جس پر اسلام اور عیسائیت کا فیصلہ ہوگا۔اس کے پڑھنے پر فہیم آدمی اندازہ کر سکتا ہے کہ آپ کے مد نظر مباحثات میں ہمیشہ ایک ہی امر رہا کہ صداقت کا معیار تقرب باللہ کے نشانات کے رنگ میں پیش کیا جائے چنانچہ آپ نے تحریر فرمایا۔قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّهَاء کوئی اس پاک سے جو دل لگاوے کرے پاک آپ کو تب اس کو پاوے یہ تو ہر ایک قوم کا دعوی ہے کہ بہتیرے ہم میں ایسے ہیں کہ خدا تعالیٰ سے محبت رکھتے ہیں۔مگر ثبوت طلب یہ بات ہے کہ خدا تعالیٰ بھی اُن سے محبت رکھتا ہے یا نہیں۔اور خدا تعالیٰ کی محبت یہ ہے کہ پہلے تو اُن کے دلوں پر سے پردہ اُٹھاوے جس پردہ کی وجہ سے اچھی طرح انسان خدا تعالیٰ کے وجود پر یقین نہیں رکھتا اور ایک دھندلی سی اور تاریک معرفت کے ساتھ اس کے وجود کا قائل ہوتا ہے بلکہ بسا اوقات امتحان کے وقت اسکے وجود سے ہی انکار کر بیٹھتا ہے اور یہ پردہ اُٹھایا جانا بجز مکالمہ الہیہ کے اور کسی صورت سے میسر نہیں آسکتا پس انسان حقیقی معرفت کے چشمہ میں اس دن غوطہ مارتا ہے جس دن خدا تعالیٰ اس کو مخاطب کر کے اَنَا الْمَوْجُوْد کی اس کو آپ بشارت دیتا ہے تب انسان کی معرفت صرف اپنے قیاسی ڈھکو سلے یا محض منقولی خیالات تک محدود ل الشمس : ١٠