حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 161
حیات احمد ۱۶۱ جلد چهارم ہیں۔اور پھر ساتویں دن مباہلہ ہو اور فریقین مباہلہ میں یہ دعا کریں مثلاً فریق عیسائی یہ کہے کہ وہ عیسی مسیح ناصری جس پر میں ایمان لاتا ہوں وہی خدا ہے اور قرآن انسان کا افترا ہے خدا تعالیٰ کی کتاب نہیں۔اور اگر میں اس بات میں سچا نہیں تو میرے پر ایک سال کے اندر کوئی ایسا عذاب نازل ہو جس سے میری رسوائی ظاہر ہو جائے۔اور ایسا ہی یہ عاجز دعا کرے گا کہ اے کامل اور بزرگ خدا میں جانتا ہوں کہ در حقیقت عیسی مسیح ناصری تیرا بندہ اور تیرا رسول ہے خدا ہرگز نہیں۔اور قرآن کریم تیری پاک کتاب اور محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تیرا پیارا اور برگزیدہ رسول ہے اور اگر میں اس بات میں سچا نہیں تو میرے پر ایک سال کے اندر کوئی ایسا عذاب نازل کر جس سے میری رسوائی ظاہر ہو جائے۔اور اے خدا میری رسوائی کے لئے یہ بات کافی ہوگی کہ ایک برس کے اندر تیری طرف سے میری تائید میں کوئی ایسا نشان ظاہر نہ ہو جس کے مقابلہ سے تمام مخالف عاجز رہیں۔اور واجب ہوگا کہ فریقین کے دستخط سے یہ تحریر چند اخبار میں شائع ہو جائے کہ جو شخص ایک سال کے اندر مورد غضب الہی ثابت ہو جائے اور یا یہ کہ ایک فریق کی تائید میں کچھ ایسے نشان آسمانی ظاہر ہوں کہ دوسرے فریق کی تائید میں ظاہر و ثابت نہ ہوسکیں تو ایسی صورت میں فریق مغلوب یا تو فریق غالب کا مذہب اختیار کرے اور یا اپنی کل جائیداد کا نصف حصہ اس مذہب کی تائید کے لئے فریق غالب کو دے دے جس کی سچائی ثابت ہو۔خاکسار مرزا غلام احمد از قادیان ضلع گورداسپور (حجۃ الاسلام، روحانی خزائن جلد 4 صفحہ ۷۰،۶۹ مکتوبات احمد جلد ا صفحه ۱۷۴۱۷۳ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) ان شرائط کے طے ہو جانے کے بعد اس مباحثہ کے متعلق ایک اشتہار بہ تعداد کثیر چھاپ کر شائع کیا گیا۔